تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 140
تحریک جدید - ایک الہی تحریک خطاب فرمودہ 17 اکتوبر 1982ء بعد لیکن وہ اس کے لئے بھی تیار نہ ہوئے۔اور کہاں یہ کہ بعض ایسے اخبارات جن کے چھپنے کی اتنی تعداد ہے کہ بعض بڑے بڑے پسماندہ ملکوں کے سارے اخباروں سے زیادہ اس ایک اخبار کی اشاعت ہوتی ہے، انہوں نے تمام اہل یورپ میں بڑی فراخدلی کے ساتھ اسلام کی تبلیغ کی ہے۔بلکہ بعض اخبار تو ایسے تھے، جو ساری دنیا میں جاتے ہیں۔صرف یورپ میں نہیں بلکہ امریکہ میں بھی پڑھے جاتے ہیں۔اور بہت سی ایسی چیزیں تھی ، جس کے نتیجہ میں جب ہم یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رحم اور اس کے فضل بارش کے قطروں کی طرح بلکہ موسلا دھار بارش کے قطروں کی طرح بر سے ہیں تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں۔اب میں سپین کی طرف آتا ہوں۔سپین وہ ملک ہے، جہاں آٹھ سو سال تک مسلمانوں نے حکومت کی۔آٹھ سو سال کا عرصہ، کوئی معمولی عرصہ نہیں ہوتا۔اور ایسی شاندار حکومت کی کہ اس حکومت کے نتیجہ میں تمام سپین ، تمام مغرب کے لئے روشنی کا مینار بن گیا۔عدل و انصاف کو قائم کیا ، انسانی حقوق کو ادا کیا ، مذاہب کے درمیان عدل اور توازن کو قائم کیا۔اور ایک واقعہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ تلوار کے زور سے کسی کو مسلمان بنایا ہو۔اخلاق حسنہ کے نتیجہ میں اور مواعظ حسنہ کے نتیجہ میں وہاں قبائل کے قبائل مسلمان ہو گئے۔آٹھ سو سال کا عرصہ، کوئی معمولی عرصہ نہیں۔اس عرصہ میں تو قوموں کی تاریخ بنتی بھی ہے، بگڑتی بھی ہے، پھر بنتی ہے اور پھر بگڑ جایا کرتی ہے۔آپ ہندوستان کی گزشتہ آٹھ سو سال کی تاریخ کا مطالعہ کریں، کتنی حکومتیں آئیں۔انہوں نے عروج پکڑا، پھر وہ مٹ گئیں، پھر ان کی جگہ دوسری آئیں، پھر انہوں نے عروج پکڑا اور مٹ گئیں۔اور یادگار کے طور پر اپنے کھنڈر چھوڑ گئیں۔ایک کے بعد دوسری لہر آئی ہے اور انگریز نے جب حکومت کی ہے تو یوں لگتا تھا ، جس طرح ہزاروں سال سے یہ قوم ہم پر مسلط ہے۔حالانکہ ان کے پہلے دن کا آنا اور آخری دن کا جانا، حکومت کا عرصہ نہیں۔آغاز میں ان کا ادخال اور آخری انجام تین سو سال کے اندر ختم ہو گیا۔اس لئے آٹھ سو سال کا عرصہ، کوئی معمولی عرصہ نہیں ہے۔لیکن پھر سپین پر ایک ایسی ہیبت ناک رات طاری ہوئی ہے کہ سات، ساڑھے سات سو سال تک اسلام کا نشان کلیپ وہاں سے مٹا دیا گیا۔نومسلموں پر اتنے شدید مظالم توڑے گئے اور باہر سے آنے والوں پر کہ کچھ کو تو دھکیل کر سمندر سے باہر یہ کہہ کر بھجوایا گیا کہ سمندر کے رستے جہاں سے تم لوگ آئے تھے، وہاں واپس چلے جاؤ۔اور ان جہازوں کو عین وسط سمندر میں ڈبودیا گیا۔اور ایک بھی ان میں سے بیچ کر اپنے وطن کو واپس نہیں جاسکا۔اور پھر جو پیچھے تھے، ان کو گھیر کر جس طرح پرانے زمانہ میں بادشاہ شکار کیا کرتے تھے ہرنوں کا یا جس طرح بابر نے شکار کیا، تزک بابری میں لکھا ہوا ہے اور بھی ایسی کتابوں میں پرانے زمانہ کے شکار کا ذکر ملتا ہے کہ فوج گھیرا ڈال کر ایسے اندر 140