تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 137 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 137

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد ششم خطاب فرموده 17 اکتوبر 1982ء ہم نے خدا تعالیٰ کے فضلوں کو بارش کی طرح برستے دیکھا خطاب فرمودہ 17 اکتوبر 1982ء بر موقع سالانہ اجتماع مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔اللہ تعالیٰ کا بے انتہا احسان ہے کہ اس نے مسجد سپین کے افتتاح کو ہر لحاظ سے انتہائی بابرکت فرمایا اور مختلف رنگ میں اپنے افضال کی بارش نازل فرمائی۔اور اس سارے سفر میں ہم نے اس کی رحمتوں کے اور نصرتوں کے نشان دیکھے اور ہماری روحیں اس کی نصرت کے قدم چومتی رہیں۔آپ خدام، خدام احمدیت بے قرار ہوں گے کہ اس سلسلہ میں، میں کچھ بیان کروں۔کیونکہ محض یہ کہنا تو کافی نہیں کہ فضلوں کی بارش نازل ہوئی۔کیسے ہوئی ؟ کچھ دل کو اطمینان تو ہو کہ واقعہ بارش ہی تھی ، کوئی مبالغہ آمیزی نہیں تھی۔میرا فرض ہے کہ میں آپ کو بتاؤں، آپ کے ذہن کو بھی تسلی دوں اور آپ کے دل کو بھی تسلی دوں۔تا کہ جب آپ واپس جاکر ان یادوں میں کھو کر اپنے رب کی حمد کریں تو دل کی گہرائیوں سے آپ کی حمد اٹھے۔ایک عارف کے دل کی طرح آپ کا دل حمد میں محو ہو جائے۔محض ایک نظریاتی حمد نہ ہو بلکہ قلبی واردات سے تعلق رکھنے والی حمد ہو۔لیکن اس سے پہلے کہ میں آگے کچھ بڑھوں ، میرا یہ مشورہ ہے کہ جو دوست کھڑے ہیں، جہاں تک ممکن ہو، وہ بیٹھ جائیں۔سوائے اس کے کوئی جگہ ایسی ہے، جہاں بیٹھنا نا ممکن ہو۔وہ بیٹھنے کی کوشش کریں۔قناتیں اسی لئے بنائی گئی تھیں تا کہ جو بڑی دیر سے آکر اندر بیٹھے ہوئے ہیں، ان کو ٹھنڈی ہوا کے جھونکے پہنچیں۔بہت گرمی ہے، اس لئے کنارے کے دوست اول تو ویسے ہی نسبتا ٹھنڈی جگہ کھڑے ہیں۔اوپر سے گھیر کر وہ اندر والوں کو گرمی پہنچائیں، یہ ٹھیک نہیں۔دوست تشریف رکھیں اور اطمینان سے تقریر سنیں۔یہ سارا سفر مختلف رنگ میں خدا تعالیٰ کے فضلوں کا مظہر رہا۔بارش ، موسلا دھار بارش کی علامت کیا ہوتی ہے؟ وہ جل تھل کو بھر دیتی ہے۔خشکی کو بھی اور تری کو بھی۔اور مذہبی اصطلاح میں خشکی سے مراد غیر مذہبی دنیا ہوتی ہے اور تری سے مراد نہ ہی دنیا ہوتی ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے اس محاورہ کو استعمال کرتے ہوئے فرمایا:۔ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم (42) 137