تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 128 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 128

خطاب فرمودہ 16 اکتوبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک کی لجنات کو لکھا جا سکتا ہے کہ آپ ہمیں، جو بہترین آواز والی، اچھے تلفظ والی خواتین ہیں، ان کی آواز کی ریکارڈنگ کا نمونہ بھجوائیں۔پھر مختلف آوازوں میں ریکارڈنگ کا یہ پروگرام چل سکتا ہے۔آٹھ ، دس خواتین کی آوازوں ہی میں جو آپ ساری دنیا میں سے چنیں، قرآن کریم کے مختلف حصے ٹیپ کروائے جا سکتے ہیں۔کسی کو کوئی آواز پسند ہوتی ہے، کسی کو کوئی پسند ہوتی ہے۔کسی کے دل پر کسی خاص آواز کا اثر ہوتا ہے، کسی کے دل پر کسی اور خاص آواز کا۔اس لئے ضروری نہیں کہ آپ کو جو ایک آواز پسند آئے ، وہی ساری دنیا کو بھی پسند آ جائے گی۔مختلف طرز میں پڑھنے والیاں ہیں، مختلف آواز کی گہرائی میں پڑھنے والیاں ہیں۔کوئی باریک آواز سے پڑھتی ہے، کوئی نسبتا موٹی آواز سے کوئی ٹھہر ٹھہر کر کوئی نسبتاً تیز۔کوئی اونچی آواز سے اور کوئی مدھم آواز سے پڑھتی ہیں۔خدا تعالیٰ نے آواز کی مختلف قسمیں بنائی ہیں۔ان مختلف نمونے کی بجنات سے تلاوت کرائیں ، ان کے ترجمے کریں۔اور پھر ساری زبانوں میں ان کے ترجمے ہوں۔اور اس کا طریق یہ ہو گا کہ آپ نے صرف اس وجہ سے تلاوت نہیں کروائی کہ ان کو صوتی لحاظ سے لذت حاصل ہو۔بلکہ صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھنا بھی آجائے۔اسی لئے لازماً ایسی تلاوت میں ذرا مختلف طریق کار اختیار کرنا پڑے گا۔مثلاً الحمد للہ رب العالمین ہے، اسے پہلے اس آواز میں پڑھا جائے۔( حضور نے ٹھہر ٹھہر کر اور علیحدہ علیحدہ پڑھ کر بتایا۔پھر اس کا ترجمہ بتایا جائے کہ اس کا یہ ترجمہ ہے۔اس کو جب اکٹھا پڑھتے ہیں تو اس طرح پڑھتے ہیں۔چنانچہ حضور نے الحمد للہ رب العالمین روانی سے پڑھ کر بتایا۔پھر الرحمن الرحیم۔مالک یوم الدین اور اس کا ترجمہ ٹھہر ٹھہر کر ، الفاظ کو الگ الگ کر کے بتایا جائے اور پھر اکٹھا کر کے۔اس کے بعد تلاوت کا نمونہ آئے۔اور ایک بہت ہی پیاری آواز میں الحمد للہ رب العالمین کی تلاوت کی جائے۔اسی طرح باقی چھوٹی سورتیں یا آیات منتخب کر کے ان کے ساتھ بھی بالکل اسی پروگرام کے مطابق سلوک کیا جائے۔بعد میں پھر یکجائی صورت میں تمام آیات کی اکٹھی تلاوت ہو۔جو تبلیغ کا حصہ ہے، اس سے قرآن کریم کو خواہ وہ کسی مضمون سے تعلق رکھتا ہو، الگ نہیں کیا جا سکتا۔کیونکہ قرآن کریم میں ایک اتنا گہراذاتی اثر ہے کہ خواہ یہ اختلافی مسائل پر بحث کر رہا ہو یا اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے اوپر بات کر رہا ہو، غیروں کے اوپر بہت ہی گہرا اثر کرتا ہے۔ناروے میں ہم شمال کی طرف گئے تو واپسی پہ دورا تیں ہم باہر ٹھہرے۔سیر کا پروگرام تھا۔جس ہوٹل میں ٹھہرے، وہاں امریکنوں کا ایک بہت بڑا قافلہ بھی آیا ہوا تھا۔صبح اٹھ کر ہم نے باہر صحن میں نماز ھی۔رات مغرب اور عشاء کی نمازیں بھی باہر مسمن میں پڑھیں۔اس کے ساتھ ہوٹل کے کمرے تھے، جن 128