تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 129 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 129

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد خطاب فرمودہ 16 اکتوبر 1982ء میں وہ مہمان ٹھہرے تھے۔صبح ایک امریکن نے ہمارے ایک احمدی دوست سے ذکر کیا کہ جب تم لوگ نماز پڑھ رہے تھے تو جو آواز تھی، جو کلام تم پڑھ رہے تھے ، ہمیں سمجھ تو نہیں آرہا تھا مگر اتنا گہرا اثر تھا بیعت پر کہ ہم لوگ باہر بالکونی میں نکل کر وہ سننے لگ گئے تھے۔تو کلام الہی میں ایک بہت پاکیزہ اور گہرا اثر ہے۔اور تبلیغ کے لئے انتہائی موزوں اور سب سے مؤثر ذریعہ یہ ہے کہ کلام الہی غیروں کو سنایا جائے اور ساتھ ساتھ اس کے ترجمے پیش بھی کئے جائیں۔تو Recitation ہو، پھر بعد میں اکٹھا ترجمہ بھی پڑھ دیا جائے تاکہ وہ ان ٹکڑوں کو دوسروں کے لئے بھی استعمال کر سکیں۔اسی مضمون میں، اسی نہج پر حدیث کی ٹیمیں تیار کی جائیں۔اور خصوصیت کے ساتھ وہ احادیث اختیار کی جائیں، جن میں اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کا بیان ہو۔اور مستورات کی تربیت کے ساتھ بھی تعلق رکھتی ہوں۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ سے بہتر اور مؤثر الفاظ کسی انسان کو نصیب نہیں ہوئے۔تربیت کے معاملے میں ایک چھوٹا سا ایسا پیارا کلمہ آپ بیان فرما دیتے ہیں کہ وہ سیدھا دل کی گہرائیوں میں اتر جاتا ہے اور کوئی طاقت بھی اس کو روک نہیں سکتی، دل میں جذب ہونے سے۔اس لئے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام میں چھوٹی چھوٹی احادیث کا انتخاب کر کے ان کو بھی ریکارڈ کیا جائے۔یہ احادیث کا مضمون ہو جائے گا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کلام ہے، جو اس زمانے میں تمام انسانوں کے کلاموں سے زیادہ پر شوکت کلام ہے اور بہت ہی گہرا اور پر اثر کلام ہے۔دراصل کلام کی عظمت کا راز اس کی صداقت میں پنہاں ہوتا ہے۔یہ اصول یا درکھیں۔کیونکہ یہ اصول آپ کو تبلیغ میں کام آئے گا۔جتنا سچا انسان ہو، جتنا سچائی سے بات کرنے والا ہو، اتنا ہی اس کا کردار سچائی میں ڈھلنے لگتا ہے اور اتنا ہی اس کی آواز میں وزن پیدا ہو جاتا ہے۔اس کا دوسرا نام قوت قدسیہ ہے۔بظاہر وہی الفاظ ہوتے ہیں، جو عام بنی نوع انسان استعمال کرتے ہیں۔لیکن انہی الفاظ میں ڈھلا ہوا کلام بظاہر ایک عام انسان کر رہا ہے لیکن اس کے اندر ایک غیر معمولی طاقت پیدا ہو جاتی ہے، اس میں غیر معمولی جذب اور اثر پیدا ہو جاتا ہے۔تو اس سے آپ یہ نکتہ بھی سمجھ لیں کہ اگر آپ نے کامیاب مبلغات بننا ہے تو آپ کو سچائی اختیار کرنی پڑے گی۔ایسی گندی عادتیں ہمارے معاشرے میں پڑ چکی ہیں کہ میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ ہمارا ہر گھر سچائی پر قائم ہے۔مذاق میں جھوٹ بولنے کی عادت ہے۔بچے جھوٹ بول 129