تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 126 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 126

خطاب فرمودہ 16 اکتوبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم حوصلے والے لوگ ہیں، ہم حضوراکرم کے غلام زادے اور غلام زادیاں ہیں، ہمارے دل چھوٹے نہیں تم گالیاں دیتے چلے جاؤ اور ہم تمہیں دعائیں دیتی چلی جائیں گی۔اس حو صلے کے ساتھ ، اس عزم کے ساتھ آپ نے تبلیغ کا منصوبہ بنانا ہے۔اس میں لجنہ اماءاللہ مرکز یہ کوئی قسم کے کام کرنے ہیں۔وہ مختصر آمیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔کیونکہ میں نے ابھی اطفال الاحمدیہ کے اجلاس میں بھی جانا ہے۔بعد میں ہماری والدہ سیدہ ام متین ( سلمہا اللہ ) یا جو بھی نیا صدر منتخب ہو، وہ وقتا فوقتا مجھ سے ہدایت لے سکتی ہیں۔لیکن منصوبے کے جو خد و خال ہیں، وہ میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔اس کا کچھ حصہ یورپ کی مجالس میں ، میں کھول آیا ہوں۔پہلے ہی ایک تو مرکزی منصوبہ بنا کے اعداد و شمار ا کٹھے کر کے یہ معلوم کرنا ہے کہ مختلف بجنات اللہ تعالیٰ کے فضل سے کتنی بڑی کمندیں ڈالنے کا منصوبہ بنا رہی ہیں؟ کتنی بلند کمندیں ڈالنا چاہتی ہیں اور ان کے پاس کیا کیا ذرائع ہیں؟ اور ان کے لئے کون سا معقول اور مناسب لائحہ عمل تجویز کر کے منظور کر لیا گیا ہے؟ اس کی آخری منظوری وہ مجھے دکھا کر لے لیا کریں۔ایک تو جو جو نیچرز (Features) ایک دفعہ منظور ہو جائیں کہ یہ طریق کار ٹھیک ہے، اس کی دوبارہ منظوری لینے کی ضرورت نہیں۔تمام دنیا کی لجنات سے اس طرح منصوبہ بندی کروائی جائے اور باقی ملکوں میں ملک وار کروائی جائے۔لیکن وہ پہلے اپنی مجالس سے کروائیں۔مثلاً انگلستان ہے۔تو وہاں لجنہ کی جتنی بھی مجالس ہیں ، وہ انفرادی طور پر ، انفرادی طور سے مراد ہے لجنہ کا ہر شعبہ، ہر شاخ، اپنا منصوبہ بنا کر اپنے ملک کو بھیجیں اور اس ملک کی مرکزی مجلس عاملہ اپنے ملک کے حالات کے مطابق غور کرے اور امیر سے منظوری لے کر اس کی سفارشات کے ساتھ وہ لجنہ اماء اللہ مرکزیہ کو بھیجیں۔اور اعداد و شمار کی جو آخری شکل بنے گی، وہ بھی پیش کی جائے کہ اتنی لجنات ہیں، وہ اس طرح منصوبہ بنا کر حصہ لیں گی۔اور آئندہ سال کے لئے انشاء اللہ تعالیٰ اتنی احمدی بنانے کی سکیم ہے، خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔دوسرے ہے لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کی ذمہ داری کہ اس منصوبے کو کامیاب کرنے کے لئے ان کی مدد کریں۔اس میں دو قسم کے پروگرام خصوصیت کے ساتھ پیش نظر رہنے چاہئیں۔ایک ہے، لٹریچر کے ذریعے ان کی ضروریات مہیا کرنا۔دوسرا ہے، صوتی ذرائع سے ان کی ضروریات مہیا کرنا۔صوتی ذریعے اللہ تعالیٰ نے آج کل دین کی خدمت کے لئے اس لئے مہیا فرمائے ہیں کہ ان میں بہت سے فوائد ہیں، جو تحریری ذرائع میں نہیں۔مثلاً اشاعت کے سلسلے میں ایک تو تاخیر بہت ہو جاتی 126