تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 125 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 125

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم خطاب فرمودہ 16 اکتوبر 1982ء چاہیے۔یہ معقول اصول قائم کرنے کے بعد حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جنگ کے اعداد و شمار پیش کیے کہ جب جنگیں ہو رہی تھیں، یعنی مظالم کے لمبے دور کے بعد اسلام کو جب دفاع کی اجازت ملی تو اسلام کا پھیلاؤ رک جاتا ہے۔حضرت میاں بشیر احمد صاحب نے ایک جنگ کے بعد، پھر دوسری جنگ کے بعد کے تمام اعداد و شمار اور کوائف پیش کئے کہ اس وقت اتنے اتنے مسلمان تھے اور پھر یہ ثابت کیا کہ جب جنگیں ختم ہوتی ہیں اور حضوراکرم کی زندگی کے صرف ایک دو سال باقی ہیں تو آنا فانا اس دو سال کے عرصے میں تمام عرب مسلمان ہو جاتا ہے۔تو یہ عجیب جنگ کا مذہب ہے کہ جنگ کے زمانے میں تو پنپتا نہیں اور امن کے زمانے میں پنپنے لگ جاتا ہے۔پس چونکہ ہم اسلام کے دعویدار ہیں۔اور دنیا کی کوئی طاقت ہمارا یہ دعوئی ہم سے چھین نہیں سکتی کہ ہم مسلمان ہیں خدا کے فضل سے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہمیں مسلمان قرار دیتا ہے۔یہ ہمارا پیدائشی حق ہے۔اس کی خاطر ہم ہر قربانی کے لئے تیار ہیں۔لیکن اس دعوئی میں ہی امن کی تعلیم ہے۔کیونکہ مسلم کی تعریف آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے یہ فرمائی کہ جس کے ضرر سے شر سے، جس کی زبان سے، جس کے قول وفعل سے دوسرے آدمی محفوظ رہیں۔یعنی کسی کو کسی نوع و کا بھی دکھ نہ پہنچائے۔تو چونکہ ہم بچے مسلمان ہیں اور اس دعوے میں سچے ہیں، اس لئے ہمارا لا زمی فرض ہے کہ اپنے اعمال کے ذریعے سے اس بات کو ثابت کریں۔اور مسلمان کی اس تعریف کو پیش نظر رکھیں ، جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے خود فرمائی ہے۔یعنی ایک مسلمان آنحضور کی نظر میں کیا ہے؟ اس رنگ میں تعریف ہے، فرماتے ہیں، وہ جس کی زبان سے، جس کے قول سے، جس کی اداؤں سے کسی رنگ کا بھی ضرر کسی کو نہ پہنچے اور ہر ایک محفوظ رہے۔کیونکہ مسلم کا لفظی ترجمہ ہی ہے امن دینے والا۔تو نام تو امن دینے والا ہو اور شر پھیلا رہا ہو ، نام تو امن دینے والا ہو اور گالیاں دے رہا ہو ، گالی کا جواب گالی سے اور اینٹ کا جواب پتھر سے دے رہا ہو، وہ مسلمان نہیں ہو سکتا۔کم از کم حضوراکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف منسوب ہونے والا وہ غلام نہیں بن سکتا، جس کی آپ نے یہ تعریف فرمائی ہے۔اس لئے اس بات کو پیش نظر رکھنا پڑے گا کہ اس سکیم کے اندر کسی رنگ میں بھی دل آزاری کا کوئی پہلو بھی نہ ہو۔سوائے محبت اور رحمت کے اور کوئی جذبہ اس تبلیغ کے پیچھے نہ ہو۔اور محبت اور رحمت کا جذبہ یقیناً غالب آیا کرتا ہے۔اس کو دنیا کی کوئی طاقت مغلوب نہیں کر سکتی۔اس لئے اس جذبہ کے ساتھ قربانیوں کے لئے تیار ہوتے ہوئے ، بنی نوع انسان کی ہمدردی اختیار کرتے ہوئے، یہ فیصلہ کر کے کہ اگر اس راہ میں گالیاں بھی پڑتی ہیں تو گالیاں کھا ئیں گے اور مسکرا کر گالیاں کھائیں گے اور بتائیں گے کہ ہم 125