تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 108 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 108

اقتباس از خطاب فرموده 15 اکتوبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک بھی ہم سے گزررہے ہیں اور خطرہ ہے کہ نو جوان، جو اپنے اندر گرم خون رکھتے ہیں، وہ کسی وقت بے اختیار ہو جائیں اور ان منافرانہ جذبات سے مغلوب ہو کر وہ بھی کوئی ایسا کلمہ دل سے نکال دیں، جو اپنے اندر تلخی رکھتا ہو۔اس لئے تمام نوجوانوں کو میں خصوصیت کے ساتھ یہ نصیحت کرتا ہوں کہ آپ نے ہرگز کسی رنگ میں بھی دل آزاری نہیں کرنی۔آپ کے عہد بیعت میں یہ الفاظ داخل ہیں کہ میں کسی کا دل نہیں دکھاؤں گا۔اس لئے کسی نوع کی بھی دل آزاری ہمارے احمدی خدام کی طرف ظاہر نہیں ہونی چاہئے۔جو بری بات کہتا ہے، جو تلخ بات کہتا ہے، جو نفرت کی نگاہ سے آپ کو دیکھتا ہے، اس کے سامنے معجز کا اظہار کیجئے، گر جائیے ، بچے ہو کر جھوٹوں کی طرح تذلل اختیار کیجئے، معافی مانگئے ، اس سے کہیں کہ ہمارا مقصد ہرگز دل آزاری نہیں تھا۔حقیقت یہ ہے کہ دو مختلف متضاد دعویداران محبت آج دنیا میں پیدا ہو چکے ہیں۔ایک وہ جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا دعویٰ کرتے ہوئے ، اس محبت کے نتیجے میں اپنی دانست میں اتنا بڑھے ہوئے ہیں کہ یہ بھی برداشت نہیں کر سکتے کہ کوئی حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لے۔یہ بھی برداشت نہیں کر سکتے کہ کوئی حضرت محمد مصطفیٰ کے نام کو بلند کرتے ہوئے کوئی انسان دنیا میں مساجد بنائے۔یہ بھی برداشت نہیں کر سکتے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو پھیلانے کے لئے تمام دنیا میں کوئی انسان دیوانوں کی طرح پھرتا چلا جائے اور سب کچھ شار کرتا ہوا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا اعلان کرتا رہے۔یہ عجیب محبت ہے۔عجیب تقاضے ہیں، اس محبت کے۔ہمیں تو اس محبت کی کوئی سمجھ نہیں آتی۔ہم تو اس محبت سے کلیتہ نا آشنا ہیں۔ہم تو یہ جانتے ہیں کہ اگر کسی سے محبت ہو تو دشمن بھی اس کی تعریف کرے تو دل اس دشمن پر فدا ہونے لگتا ہے۔ہم تو صرف اس محبت سے واقف ہیں کہ اگر معاند سے معاند انسان بھی کسی محبوب کی تعریف کرنے لگ جائے تو دل اس پر نچھاور ہونے لگتا ہے اور اسے معاف کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے“۔وو جو سچا پیار کرنے والا ہو، وہ دوسرے کے پیار سے جلتا نہیں ہے، دوسرے کے پیار سے دشمنی محسوس نہیں کرتا، دوسرے کے پیار کے نتیجے میں اپنی دشمنیاں بھلا دیا کرتا ہے۔پس ہم تو صرف اس محبت سے آشنا ہیں۔اگر ہمیں سچی محبت ہے، اگر سچا پیار ہے تو اس کے نتیجے میں ہماری تو یہ کیفیت ہے کہ 108 ان کو آتنا ہے پیار پر قصہ کو غصے پیار آتا ہے