تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 107 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 107

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم اقتباس از خطاب فرموده 15 اکتوبر 1982ء ہونے چاہئیں، عاشقان احمدیت ہونے چاہئیں۔اس کے دل میں ولولے ہوں، پیار اور محبت اور عشق کے۔کیونکہ اس کے سوا ہمارے پاس اور کوئی طاقت نہیں۔اور اس کے سوا ہم دنیا کو فتح کرنے کا کوئی اور ذریعہ اپنے ہاتھ میں نہیں پاتے۔ایک موقع پر بریڈ فورڈ (انگلستان) میں ایک اخباری نمائندے نے مجھ سے سوال کیا، وہ اسی نوعیت کا سوال تھا، خصوصاً اس پہلو سے اس نے اپنی مطلب براری چاہی کہ آپ محبت کا پیغام تو دیتے ہیں مگر آپ یہ بتائیں کہ جن لوگوں نے آپ پر مظالم کئے ہیں اور شدید مظالم کئے ہیں، ان کے لئے آپ کا کیا پیغام ہے؟ میں نے ان کو بتایا کہ ان کے لئے بھی ہمارے دل میں سوائے پیار اور محبت اور رحمت کے اور کوئی جذبہ نہیں۔جب میں یہ کہہ رہا تھا تو اس وقت مجھے ایک پرانی رؤیا یاد آئی۔جس میں بعینہ یہی مضمون بیان کیا گیا تھا۔لیکن فی الحال اس وقت میں اس کو آپ کے سامنے بیان نہیں کروں گا۔میں نے وہ رویا جب اس کے سامنے بیان کی تو اس کے چہرے پر اطمینان ظاہر ہوا اور بے اختیار سارے تردد اور شک کے بادل چھٹ گئے اور پوری طرح مطمئن ہو کر اس نے پھر مزید باتیں دریافت کیں۔اور رنگ بدل گیا اور شک کی بجائے اس کی آنکھوں میں بھی میں نے محبت کے آثار دیکھے۔تو حقیقت یہ ہے کہ محبت ایک ایسا ہتھیار ہے، جس کے مقابل پر دنیانے کبھی کوئی ہتھیار نہ ایجاد کیا ہے، نہ کر سکتی ہے۔اس نے لازماً فتحیاب ہونا ہے۔اس لئے ہم، جو آج نفرتوں کی آندھیوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ہم، جو آج ایسی کمزور حالت میں اپنے آپ کو پاتے ہیں کہ جو قدم ہم اٹھائیں، وہ بغض اور نفرت پیدا کرنے کا موجب بن جاتا ہے۔جو نیکی ہم کریں، وہ فتنہ وفساد شمار کی جاتی ہے۔جو خدمت اسلام کے لئے ہم اقدام کریں، اسے انتہائی حسد اور بغض کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔اس ساری صورت حال کا علاج بھی یہی ایک لفظ ”محبت“ ہے۔کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا نے ہمیشہ محبتوں سے نفرتوں پر فتح پائی ہے۔اسے جتنی مرتبہ بھی میں بیان کروں کم ہے۔میں یہ بات خاص طور پر اس لئے آج آپ کے سامنے واضح کرنا چاہتا ہوں کہ مسجد چین کا یہ با برکت اقدام، جس کی توفیق اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمائی محض اپنے فضل کے ساتھ ، اس نے بھی بعض دلوں میں بغض اور نفرت پیدا کر دئیے۔حیرت انگیز بات ہے، انسان بظاہر سوچ بھی نہیں سکتا کہ ایک نیک کام کے نتیجہ میں نفرت کیسے پیدا ہو سکتی ہے؟ رشک تو پیدا ہوسکتا ہے، یہ افسوس اور حسرت تو پیدا ہو سکتے ہیں کہ کاش! ہم یہ کام کرتے لیکن نیک کام کے نتیجے میں نفرت پیدا ہونا، عقل انسانی کے خلاف ایک مظاہرہ ہے۔یہ واقعات 107