تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 109
تحریک جدید - ایک الہی تحریک اقتباس از خطاب فرموده 15 اکتوبر 1982ء وہ اس بات پر نالاں ہیں، اس بات پر شکوہ کر رہے ہیں، ناراض ہیں ہم سے، معاف کرنے کے لئے تیار نہیں۔کہتے ہیں قتل کردوان کو کہ محمد مصطفیٰ کا نام محبت سے لے رہے ہیں۔اس پیار پر ان کو غصہ آرہا ہے کہ خدا کی خاطر یہ لوگ مسجدیں بنا رہے ہیں۔اپنے دل کی کیفیت یہ ہے کہ ہم کو غصے پر پیار آتا ہے۔اس غصے کو ہم پیار کی نظر سے دیکھتے ہیں کہ بیچارے جاہل لوگ، ناسمجھ ، نافہم بظاہر جو کچھ بھی غلط کر رہے ہوں ، دل میں یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم نے حضرت محمد مصطفی اصلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر یہ کیا ہے۔اس وجہ سے ہمیں ان پر پیار آتا ہے۔اسی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ شعر یاد آتا ہے کہ اے دل تو نیز خاطر ایناں نگاه دار کا خر کنند دعوی حب پیمبرم کہ اے میرے دل ! بڑے ظلم ہوئے ہیں تجھ پر۔لیکن یہ بھی تو خیال کر کہ آخر میرے ہی محبوب محمد کی محبت کے دعویدار ہیں یہ۔اسی محمد کی محبت کا دم بھر رہے ہیں یہ۔اس لئے جو ظلم مجھ پر کرتے ہیں، کر گزریں۔میں ان کو معاف کرتا چلا جاؤں گا۔ی تعلیم ہے، احمدیت کی۔اس تعلیم پر ہم نے بہر حال قائم رہنا ہے۔اس محبت کے اعلان میں جو حمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا اعلان ہے، ہمیں اس بات کی کوئی بھی پرواہ نہیں کہ ہم پر دنیا کیا ظلم تو وقتی ہے اور کیا گزرتی ہے؟ ہم وفادار رہیں گے، اس محبت سے۔قائم رہیں گے، اس محبت پر۔دائم اور ہمیشہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن سے چھٹے رہیں گے۔کیونکہ یہ محبوب ہے، جس کی محبت کے بعد پھر دنیا کی کوئی پر و باقی نہیں رہتی۔مستغنی ہو جاتا ہے، انسان اس بات سے کہ دنیا کیا سلوک کر رہی ہے؟ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے ، اس محبت کے تقاضے پورے کرنے کی۔یہ تقاضے بہت وسیع ہیں۔بی حض کوئی جذبات کا کھیل نہیں ہے۔جہاں تک قربانیوں کا تعلق ہے، میں جانتا ہوں اور پہلے بھی بار با تاریخ اس بات کو آزما چکی ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے دامن سے دنیا کا کوئی جبر اور استبدار احمدی کا ہاتھ الگ نہیں کر سکتا۔یہ اس قوت کے ساتھ محمد مصطفی " کے قدموں پر پڑا ہوا ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت اس ہاتھ کو جدا نہیں کر سکتی۔لیکن جہاں تک مستقل قربانیوں کا تعلق ہے، مثبت رنگ کی قربانیوں کا تعلق ہے ، وہ ایک بالکل الگ مضمون ہے۔محبت کے تقاضے وہاں بدل جاتے ہیں۔وہاں انسان کو روز بروز اپنی زندگی میں تبدیلیاں پیدا کرنی پڑتی ہیں۔وہ بہت مشکل مقام ہے۔اس اول مقام پر اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت احمد یہ ہمیشہ سے قائم ہے اور اس دوسرے مقام پر بھی بڑی شان کے 109