تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 940
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 19 فروری 1982ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم کافروں کو یہ بشارت دی کہ اگر اس زندگی میں بھی تم خوشحالی اور امن اور سکون کی زندگی چاہتے ہو تو تمہیں قرآن کریم پر ایمان لانا پڑے گا۔اور ایمان لاؤ گے تو تمہیں سب کچھ مل جائے گا۔قرآن کریم نے ان کو یہ بشارت بھی دی کہ اس زندگی کے بعض معاملات ایسے ہیں، جن کا تعلق روحانیت سے نہیں بلکہ محض ورلی زندگی کے ساتھ ہے۔اور ان معاملات میں اگر تم خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے کو اختیار کرو گے، جو قرآن کریم نے بتایا تو تمہیں اس کا نتیجہ مل جائے گا۔صرف اس وجہ سے کہ تم قرآن کریم پر ایمان نہیں لاتے ، اپنے اس عمل کے نتیجہ سے تم محروم نہیں کئے جاسکتے۔مثلاً فرمایا:۔لَّيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَى (النجم : 40,41) اب جس میدان میں غیر مسلم نے یعنی علمی میدان میں اور زندگی کے ان شعبوں میں جن کا براہ راست (ویسے تو ہر چیز کا تعلق روحانی زندگی سے ہے لیکن براہ راست ) روحانی زندگی سے تعلق نہیں تھا، جب کوشش کی تو انہیں نتجیل گیا۔یہ سائنس کی ساری ترقیات خدا تعالیٰ کے ان فضلوں کے نتیجہ میں ملیں، جو اللہ تعالیٰ نے دنیوی سعی کو مقبول کر کے اپنی رحمت ان پر نازل کی۔حضرت اقدس۔۔۔) فرماتے ہیں کہ سائنس دان ایک ایسا وقت دیکھتے ہیں، اپنی زندگی میں کہ جو کوشش کر رہے ہیں، علمی میدان میں اندھیرا آ جاتا ہے، سامنے اور ان کو کچھ پتا نہیں لگتا کہ ہم آگے کس طرح بڑھیں ؟ تو ان کی یہ تڑپ جو ہے کہ آگے بڑھیں۔کیونکہ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمَوتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ (الجامية :14) میں کم سارے انسانوں کے لئے کہا گیا ہے۔تو اندھیرے میں وہ ہاتھ پاؤں مار رہے ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ اس تڑپ کو دعا قرار دے کے اور ان کی اس تڑپ کے نتیجہ میں اس مجوب کی جو دعا ہے کہ خدا کو جانتا بھی نہیں لیکن دعا کی کیفیت اس کے اندر پیدا ہوتی ہے، اسے قبول کرتا اور اس کے لئے روشنی پیدا کر دیتا ہے۔تو قرآن کریم کی تعلیم اور ہدایت اور وہ راہیں، جو ترقی کے لئے قرآن کریم نے بیان کیں، اس دنیا میں بھی مومن و کافر کے لئے بشارتیں بھی رکھتی ہیں اور انذار کا پہلو بھی رکھتی ہیں۔یعنی اگر صحیح راہ کو اختیار کرو گے ، فلاح پاؤ گے۔اگر صحیح راہ کو اختیار نہیں کروگے، ناکام ہو جاؤ گے۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رحمتوں سے بھر پور احسان جو ہے ، وہ صرف نوع انسانی پر نہیں بلکہ عالمین پر ہے۔940