تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 939
تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پچیم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 19 فروری 1982ء جماعت احمدیہ کا فرض ہے کہ قرآن کریم کی صحیح تفسیر دنیا کے ہاتھ میں پہنچائے وو خطبہ جمعہ فرمودہ 19 فروری 1982ء۔۔۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت كافة للناس ہے۔یعنی نوع انسانی کی طرف۔دنیا کے کسی خطے میں انسان بستا ہو، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام اس کی طرف بھی ہے۔اس کی خوشحالی اور بہبود کے لئے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نوع انسانی کے ہر فرد کے لئے بشیر بھی ہیں اور نذیر بھی ہیں۔اور یہ جو بشیر ہونا ہے ، آپ گا، اس قدر بشارتیں ہیں، انسان کے لئے اس کلام الہی میں ، جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ان بشارتوں کا تعلق اس ورلی زندگی سے بھی ہے اور ان بشارتوں کا تعلق اس ابدی زندگی کے ساتھ بھی ہے، جو انسان کو اس دنیا سے کوچ کرنے کے بعد ملتی ہے۔اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نذیر بھی ہیں۔مومنوں کے لئے بھی نذیر ہیں اور نہ ماننے والوں کے لئے بھی نذیر ہیں۔عام طور پر جہاں مضمون قرآن کریم کا اجازت نہ بھی دیتا ہو، بشیر و نذیراً کے معنی یہ کر دیئے جاتے ہیں کہ مومنوں کے لئے بشیر اور کافروں کے لئے نذیر لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ صفت جب قرآن کریم کی اس آیت میں بیان ہوئی:۔وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا كَافَةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا (291) تو یہ بشیر ونذیر مومن و کافر کے لئے ہیں۔اس کی وضاحت کے لئے ہی اللہ تعالیٰ نے سورۃ اعراف میں فرمایا انسان کو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُوْنَ (الاعراف: 189) میں نذیر بھی ہوں اور بشیر بھی ہوں ، مومنوں کے لئے۔نذیر ہونا، ہوشیار کرنا، اختباہ کرنا ، مومن کو اور ہے، کا فر کو اور۔یہ تو تسلیم لیکن یہ سمجھنا کہ آپ بشیر صرف مومن کے لئے ہیں اور نذیر صرف کافر کے لئے ہیں، یہ غلط ہے۔قرآن کریم کی آیات اس کی توثیق نہیں کرتیں۔939