تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 930
اقتباس از خطاب فرموده 05 اپریل 1981ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم ہے۔اور اگر آپ نے خود پڑھنا ہی نہیں تو دنیا کے سامنے عجیب شکل بن جائے گی ناں کہ تم خود تو پڑھتے نہیں، ہمیں آکے کہتے ہو، پڑھو۔پہلے ہم نے خود پڑھنا ہے، پھر ان کو پڑھانا ہے۔اس واسطے آپ کے اندر جو کمزوریاں یا کمزور عادتیں پڑگئیں، خصوصا اس گروہ میں جو باہر سے آئے ہیں، انہیں دور کریں۔اپنی آنے والی نسل کو تو بیدار رکھیں اور ہوشیار رکھیں۔ان کو تو کتابیں پڑھاتے چلے جائیں۔اب خدام الاحمدیہ نے میرے کہنے پر ہی بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ چھپوائی ہے۔مجھے آئیڈیا آیا تھا۔ایک انگریز نے کتاب لکھی ہے ، بلال اس کا نام ہے۔78ء میں ، میں نے پڑھی۔اور پچھلے سال جب میں گیا تو مجھے ڈنمارک کے ایک ڈین نے یہ کہا، وہاں میں نے کوئی بات کی۔میں نے کہا، آپ لوگوں کو کتاب پڑھنی چاہئے۔مجھے وہ ڈین کہنے لگے کہ میں نے پڑھی تو میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔میں نے کہا، جب میں نے پڑھی میری آنکھوں میں بھی آنسو آگئے تھے۔ہیں ہی ایسی باتیں۔اس میں پتہ لگتا ہے کہ اسلام اور اسلامی معاشرے کا مزاج کیسا ہے؟ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کیا ہے؟ ایک آدمی گواہی دے رہا ہے۔پھر وہی بلال جو کوڑے کھانے والا غلام تھا، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کو سیدنا بلال کہہ کر پکارتے تھے۔اسلام نے ان کو زمین سے اٹھا کر کہاں پہنچا دیا۔تو یہ جو اسلام کا مزاج ہے، یہ اسلامی معاشرے میں ہمیں نظر آتا ہے۔یہ ہمارے معاشرے میں نظر آنا چاہئے۔یہ نظر آ ہی نہیں سکتا، جب تک آپ کے سامنے مثالیں نہ آتی چلی جائیں۔ایک کے بعد دوسری ، دوسری کے بعد تیسری، ایک ہزار کے بعد دوسرا ہزار۔اور ہیں یہ مثالیں۔ان کو اکٹھا کریں۔لیکن وہ پھر آپ کو خود بھی پڑھنی پڑیں گی۔اس کے لئے تیار ہو جائیں“۔رپورٹ مجلس مشاورت منعقدہ 03 تا 05 اپریل 1981 ء ) 930