تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 931
تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطبہ جمعہ فرمودہ 22 جنوری 1982ء اجتماعی زندگی کی بقا کے لئے ضروری ہے کہ جانے والوں کی قائمقام نسل پیدا ہو خطبہ جمعہ فرمودہ 22 جنوری 1982ء تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے یہ آیات تلاوت فرمائی:۔تَبْرَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيوة اور پھر فرمایا:۔لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ( المملكة 2,3) انسانی زندگی میں، زندگی، موت اور ابدی زندگی کا سلسلہ اللہ تعالیٰ نے جاری کیا۔اس کا ایک تعلق تو افراد سے ہے اور ایک بڑا ہی اہم تعلق جماعت سے ہے یا امت مسلمہ سے ہے۔امت مسلمہ نے اپنی چودہ سو سالہ زندگی میں اس حقیقت کو فراموش نہیں کیا تھا کہ اجتماعی زندگی ، امت مسلمہ کی زندگی اور بقاء کے لئے یہ ضروری ہے کہ جانے والوں کے بعد ان کی قائم مقام نسل پیدا ہوتی رہے۔حضرت اقدس۔ناقل) نے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ زمانہ ، جسے فیج اعوج کا زمانہ کہا جاتا ہے، جس زمانہ میں بظاہر اسلام انتہائی کمزوری اور تنزل میں ہمیں نظر آتا ہے ، اس زمانہ میں بھی ٹھاٹھیں مارتے دریا کی طرح خدا تعالیٰ کے مقربین کا گروہ ہمیں نظر آتا ہے۔امت مسلمہ نے بھی یہ نعرہ نہیں لگایا کہ خالد مر گئے اور ان کے بعد کوئی خالد پیدا نہیں ہو گا۔محمد بن قاسم اس جہان کو چھوڑ کے چلے گئے اور اب امت مسلمہ محمد بن قاسم جیسے انسانوں سے محروم رہے گی۔یا طارق آئے اور چھوٹی عمر میں اور تھوڑے سے زمانہ میں انہوں نے ایک عظیم کام کیا۔ایک عظیم خدمت، دین اسلام کی کی۔اس کے بعد اب کوئی طارق پیدا نہیں ہوگا۔بلکہ انہوں نے اس حقیقت کو سمجھا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک زندہ رسول ہیں اور آپ کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں قیامت تک خالد محمد بن قاسم اور طارق پیدا ہوتے رہیں گے۔ایسے جاں نثار کہ اپنے جذبہ جان شاری کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کی معجزانہ تائید ان کو حاصل ہوگی۔اور اسلام کے انقلاب عظیم کے لئے وہ کار ہائے نمایاں کرتے چلے جائیں گے۔جیسا کہ ایک عربی شاعر نے کہا ہے:۔ان اسید منا خلا قام سيد 931