تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 929
تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم اقتباس از خطاب فرموده 05 اپریل 1981ء عیسائی دنیا کے دل میں قرآن کریم پڑھنے کا شوق پیدا ہورہا ہے۔وہاں کے جو بت پرست ہیں، ان کے دل میں قرآن کریم کا شوق پیدا ہورہا ہے۔اور نہیں اگر پیدا ہورہا تو یہ ہماری کمزوری ہے۔میں یہ نہیں کہہ رہا که ساری جماعت ایسی ہے۔جماعت کو تو خدا تعالیٰ نے ایک ایسا ہیرا بنایا ہے، جس کی بحیثیت مجموعی کوئی قیمت نہیں۔لیکن وہ جو کہیں کہیں مجھے دھبے نظر آتے ہیں، ان کا میں ذکر کر رہا ہوں۔یا بری عادتیں پیدا ہو گئی ہیں۔مثلاً یہی ، میں نے کہا، پڑھنے کی عادت نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتاب ایک چھوٹا سا رسالہ ہے ناں، الوصیت، یہ میں نے کوئی دسیوں دفعہ بلکہ بیسیوں دفعہ رات کو پڑھی ہوگی۔ہر دفعہ ویسے ہی مزا آیا۔یہاں چونکہ میں چاہتا تھا، جلدی سے ختم کرلوں۔پھر میں اور بھی کچھ پڑھتا رہا۔لیکن یہ تھا کہ یہ جلدی سے بیچ میں سے گزر جاؤں۔لیکن کئی جگہ دل کرتا تھا کہ ٹھہر جاؤں، دس منٹ، پندرہ منٹ لگاؤں اور سوچوں ذہن میں مضمون آرہے تھے ، ہر ایک کے ذہن میں آسکتے ہیں۔مجھے بھی خدا تعالیٰ نے بنایا ، آپ کو بھی خدا تعالیٰ نے بنایا۔مجھ سے بھی وہ چاہتا ہے، پیار کرے۔اگر میں اس کے حضور وہ عمل پیش کروں، جنہیں وہ قبول کرلے۔اور آپ کے متعلق بھی وہ چاہتا ہے کہ اگر آپ اس کے حضور ایسے عمل پیش کریں، جو مقبول ہونے کے قابل ہوں تو وہ آپ سے بھی پیار کرنے لگ جائے گا۔پس خدا تعالیٰ کے خزانوں میں تو کوئی کمی نہیں۔اور نہ کمی آسکتی ہے۔تبلیغ اسلام کی جدھر ضرورت حقہ پیدا ہوتی ہے، وہ محاورہ تو تھا کہ مال چھت پھاڑ کے بھی آتا ہے، اللہ تعالیٰ تو ہمیں ساتوں آسمان میں موریاں کر کے دے رہا ہے۔سمجھ ہی نہیں آ رہی۔مجھے نہیں سمجھ آ رہی ، جس کا ہر وقت تعلق ہے کہ وہ راہیں کون سی ہیں، جن میں ہماری ترقیات کے اللہ تعالی سامان پیدا کرتا چلا جا رہا ہے؟ اچانک ایک خبر آتی ہے کہ پچھلے چھ مہینے میں بعض ذہنوں کے اندر یہ تبدیلیاں پیدا ہو گئیں۔بعض ملکوں سے بعض اور خبریں آگئیں۔چند دن ہی ہوئے سپین سے عیسائیوں کے ایک حصے کے بڑے معتبر شخص کا اب یہ بیان آگیا کہ جماعت احمدیہ سے تو ہمارا گزارا ہوسکتا ہے کیونکہ یہ بڑی امن پسند جماعت ہے۔وہ اس لئے کہ میں نے وہاں اس دن، جس دن افتتاح ہوا، اس کو میں نے بتایا تھا کہ قرآن کریم کیا کہتا ہے؟ قرآن کریم ایک عظیم کتاب ہے۔میں نے کہا، یہ کہتا ہے، یہ کہتا ہے، کوئی پندرہ ہیں باتیں میں نے ان کو بتا ئیں۔اور دو اخباروں نے لکھ دیا کہ اگر قرآن کریم کی یہی تعلیم ہے تو ہم اسے Welcome کرتے ہیں۔ہم اس تعلیم کا استقبال کرتے ہیں۔لیکن ان تک ہم نے قرآن کریم کا پیغام پہنچانا ہے۔سپینش اور پر چگیز زبان میں قرآن کریم کے ترجمے ہم نے شائع کرنے ہیں۔ترجمے شائع کر کر کے کتا میں لکھ لکھ کے غیر مسلم دنیا کو پڑھاتے چلے جانا 929