تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 678
ارشادات فرموده دوران دورہ مغرب 1980ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم ہے اور میری تمام تر دلچسپی اس بات میں ہے کہ قرآن کریم کے علوم کی زیادہ سے زیادہ ترویج واشاعت ہو۔اس تعلق میں ایک بات میں نے یہ کہی ہے کہ کوئی احمدی بچہ ایسانہ رہے، جو میٹرک پاس نہ ہو۔اس سے غرض یہ ہے کہ ہر احمدی میں قرآن کا بغور مطالعہ کرنے ، اسے سمجھنے اور قرآنی علوم میں دسترس حاصل کرنے کی اہلیت پیدا ہو جائے۔کیونکہ جب تک تعلیمی بنیاد مضبوط نہ ہو، کوئی شخص علوم قرآنی سے بہرہ ور نہیں ہو سکتا۔کسی شخص کی تعلیمی بنیاد جتنی زیادہ مضبوط ہوگی اور علمی استعداد جتنی زیادہ ہوگی، اتنا ہی زیادہ وہ قرآنی علوم کو سمجھنے اور ان سے استفادہ کرنے کے قابل ہوگا۔تعلیم کا کم از کم معیار فی الحال میٹرک مقرر کیا گیا ہے، آگے چل کر معیار کم از کم بی اے مقرر کیا جائے گا۔کیونکہ بچوں کو جتنی زیادہ تعلیم دی جائے گی، وہ اتنا ہی زیادہ قرآن کو سمجھیں گے۔فی الاصل یہ ایک نہایت ہی اہم منصوبہ ہے اور اس میں درجہ بدرجہ ترقی کے کئی مرحلے آئیں گئے۔حضور نے اس امر پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ وہ اپنے فضل ورحمت اور نشان کے طور پر جماعت کو بہت ہی ذہین بچے عطا کر رہا ہے۔حضور نے بتایا کہ ابھی حال ہی میں سرگودھا بورڈ کا میٹرک کا نتیجہ نکلا ہے۔لڑکیوں میں دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی دونوں بچیاں احمدی ہیں۔بورڈ بھر میں دو احمدی بچیوں کا اتنی اعلیٰ پوزیشن حاصل کرنا معمولی بات نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کا یہ فضل اس امر پر دال ہے کہ وہ جماعت کو اعلیٰ ذہنوں سے نواز رہا ہے۔اس ضمن میں حضور نے دماغی قوت اور ذہنی استعداد بڑھانے والے ایک خاص کیمیکل کا ذکر فرمایا ہے، جو لیسی تھین (Lecithin) کہلاتا ہے۔اور اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ بچوں کو مناسب مقدار میں سویا نین (جس میں لیسی تھین کی کافی مقدار ہوتی ہے ) ضرور استعمال کرانی چاہئے۔حضور نے فرمایا:۔ر تعلیمی منصوبہ کے تحت میں نے تمام احمدی بچوں اور بچیوں کے لئے لازمی قرار دیا ہے کہ وہ اپنے اپنے امتحان کا نتیجہ نکلنے پر اپنے نتیجہ کی مجھے اطلاع دیں۔ان کے خطوط کے میں خود جواب دوں گا۔خطوط کے جواب ارسال کرنا اتنا آسان نہیں، جتنا کہ بعض بچے سمجھتے ہوں گے۔اب تک پندرہ ہزار سے زیادہ خطوط موصول ہو چکے ہیں۔ان خطوں کو پہلے شہر وار اور پھر ضلع وار ترتیب دینا تھا، پھر ان کا درجہ بندی کے بعد رجسٹروں میں اندراج ہونا تھا اور کارڈ سسٹم کے ذریعہ ان کا ریکارڈ تیار کرنا تھا۔پھر جوابی خطوط تیار کر کے اور پتے وغیرہ درج کر کے انہیں پوسٹ کرانا تھا۔اس کام کے لئے کافی وقت اور عملہ درکار تھا۔بہر حال کافی تعداد میں مربیان کو اس کام پر لگا نا پڑا ، تب جا کر خطوں کے جواب ارسال کرنے کا مرحلہ آیا۔678