تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 639 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 639

تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطبہ جمعہ فرمودہ 15 فروری 1980ء جو سب سے اہم چیز ہے، وہ یہ ہے کہ جو اس وقت موجود جماعت احمدیہ کے افراد ہیں ، ان کی زندگی میں ایک انقلاب عظیم بپا ہو۔اسلامی تعلیم کے مطابق، اسلامی ہدایت کے مطابق ہمارے مرد اور ہماری عورتیں، ہمارے بڑے اور ہمارے چھوٹے اور ہمارے جوان اور ہمارے بچے زندگی گزارنے والے ہوں۔جب تک وہ انقلاب، جو دنیا میں خدا لا نا چاہتا ہے، وہ ہماری زندگی میں نہیں آتا ، ہم کس طرح اس انقلاب کو دنیا میں بپا کر سکتے ہیں؟ یہ کہنا کہ ساری دنیا میں اسلام غالب آئے گا، یہ کہنا کہ نوع انسانی ، نوع انسانی کا مطلب یہ ہے کہ افریقہ کے رہنے والے قریب سارے انسان ، جنوبی امریکہ کے رہنے والے، برازیل وغیرہ ، وہاں بہت سارے ممالک ہیں، وہاں کے رہنے والے سارے باشندے، شمالی امریکہ، THE STATE جس کا بہت ذکر آج کل آ رہا ہے افغانستان کی گڑبڑ کی وجہ سے، وہاں کے سارے باشندے جو ہیں، کینیڈا ہے، یورپ ہے ، Near East ( مشرق قریب) اور Middle East ( مشرق وسطی اور Far East ( مشرق بعید کے ممالک جو ہیں، جزائر جو ہیں، چائنہ جو ہے اور یہ جو ا کمیونسٹ ایشیا ہے اور جاپان اور آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ اور نجی آئی لینڈ وغیرہ وغیرہ، جہاں جہاں انسانی آبادیاں بستی ہیں، وہ ساری کی ساری اسلام میں داخل ہو جائیں گی لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ مسلمان کہلانے لگیں گے۔مسلمان کہلانا کسی خطے کا ہمیں یہ نہیں بتا تا کہ اسلام وہاں غالب ہے۔یہ بتاتا ہے کہ وہاں مسلمان کہلانے والوں کی اکثریت ہے۔غلبہ اسلام کے معنی یہ ہیں کہ وہ اسلامی تعلیم کے مطابق اپنی زندگی گزار رہے ہوں گے۔اگر غلبہ اسلام کے یہ معنی نہیں کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہلانے لگیں، بلکہ یہ معنی ہیں کہ وہ صیح شکل میں مسلمان ہو کے ان کی روح کے اندر اسلام داخل ہو چکا ہو۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے کہ اسلام کے معنی ہیں، کامل اطاعت۔اور مثال یہ دی ہے ہمیں سمجھانے کے لئے کہ جس طرح ایک بکر اجبراً ( وہ تو اس کے اوپر جبر ہو رہا ہے تب ) قصائی کی چھری کے نیچے اپنی گردن رکھ دیتا ہے، اس طرح انسان اپنی مرضی سے اور طوعا بغیر کسی قسم کے جبر کے خدا تعالی کی اطاعت کے نیچے اپنی گردن رکھ دے۔یہ ہے اسلام، یہ ہے اسلام کا غلبہ۔جب ہم کہتے ہیں کہ اسلام ساری دنیا میں غالب آ جائے گا تو ہم یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ساری دنیا کے انسان، اسلامی تعلیم پر عمل پیرا ہونے لگیں گے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چل کر خدا تعالیٰ کے پیار اور محبت کو حاصل کرنے والے ہوں گے۔روس آج یہ کہہ رہا ہے کہ میں زمین سے خدا کے نام اور آسمانوں سے خدا کے وجود کو مٹانے کے لئے قائم ہوا ہوں۔محمد کا خدا یہ کہ رہا ہے کہ نہیں ! تمہارے ملک میں ریت کے ذروں کی طرح مسلمان پایا 639