تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 45
تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطبہ جمعہ فرمودہ 08 فروری 1974ء نوافل پڑھو، یہ ان کو ایسی تکلیف دینا ہے، جس کی وہ طاقت نہیں رکھتے۔لیکن ظہر کے بعد وہ دورکعت نفل پڑھ سکتے ہیں۔یہ دو نفل ان نوافل سے زائد ہیں، جن کی پہلے سے کسی احمدی کو عادت ہے اور وہ نفل کی صورت میں پہلے سے پڑھ رہا ہے ، ان کو یہ دو فل زائد کرنے پڑیں گے۔ذکر : ( روزه، نفل نماز پڑھنا اور ذکر ) ذکر کے مختلف پہلو ہیں، جن کو میں اس وقت بیان کر رہا ہوں۔ایک ہے، ذکر سورۃ فاتحہ کی تلاوت۔سورۃ فاتحہ قرآن کریم کا نچوڑ بھی ہے اور خالی نچوڑ نہیں بلکہ اتنا حسن ہے، اس اختصار میں ، اور اتنی تفصیل ہے، اس اجمال میں، اور اتنے پیار کی جھلک ہمیں نظر آتی ہے اللہ تعالیٰ کے اس احسان میں کہ قرآن کریم کا خلاصہ ہمیں سورۃ فاتحہ کی شکل میں دے دیا اور اتنی خوشبو ہے، اس کی روحانیت میں کہ اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔پس سورۂ فاتحہ بہت بڑا ذ کر ہے۔ہم اسے بہت دفعہ پڑھتے ہیں، نماز کی ہر رکعت میں ہم پڑھتے ہیں۔لیکن میں یہ چاہتا ہوں کہ جتنی باراب ہم پڑھ رہے ہیں، اس سے زیادہ سات بار روزانہ ایک احمدی سورہ فاتحہ کو پڑھے اور اس کے مطالب پر غور کرے۔اور اس کے لئے میرا اندازہ ہے کہ اگر دنیا میں بسنے والے سب احمدی اس طرف توجہ کریں تو تمہیں لاکھ احمدی ایسا ہوگا ، جوسورۂ فاتحہ سات بار روزانہ پڑھ سکتا ہے۔اور اگر میں لاکھ احمدی بچہ، بڑا سات بار روزانہ پڑھے مگر اس میں ، میں یہ ضرور کہوں گا کہ ماں باپ اپنے گھر میں بچوں کو اکٹھی سات مرتبہ نہیں پڑھائیں کیونکہ اس سے وہ اکتا جائیں گے بلکہ دو دفعہ سے زیادہ کسی وقت نہیں، اپنے بچوں سے سورہ فاتحہ پڑھائیں۔جو چھوٹے بچے ہیں، پانچ یا سات سال کے، اور خدام الاحمدیہ کے قواعد کے مطابق ابھی اطفال الاحمدیہ کی تنظیم میں داخل نہیں ہوئے ، ان سے بھی پڑھا ئیں۔اور جو چھوٹے بچے ہیں، ان کی تعداد بے شک کم ہی ہو کیونکہ یہ اصل میں تو ان کے لئے ہے، جن پر نماز فرض ہو گئی۔وہ سات بار پڑھیں۔اور جو اپنی عمر کے لحاظ سے ایسا ہے، جس پر نماز فرض نہیں ہوئی، وہ اپنی طاقت کے مطابق، جس کا فیصلہ اس کے نگران یا ماں باپ یا بڑے بھائی نے کرنا ہے۔اگر وہ اس گھر میں ہے اور ماں باپ کہیں باہر گئے ہوئے ہیں۔اگر تمیں لاکھ آدمی سات بار سورہ فاتحہ روزانہ پڑھیں تو جماعت کی مجموعی مالی قربانی کے فی روپیہ کے مقابلہ میں سورہ فاتحہ کی ایک سو اٹھائیس مرتبہ تلاوت ہوگی۔یعنی فی پیسہ کے مقابلہ میں ایک دفعہ سے زائد سورہ فاتحہ جیسا عظیم اللہ تعالیٰ کا کلام پڑھے اور اس دعا کے ساتھ ، بڑی عجیب دعا ہے کہ اے خدا! پیسہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا مگر تیرے اس عظیم کلام کے صدقے سے ہم تجھ سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے دھیلے میں تو برکت ڈال اور اس کے وہ نتائج نکال، جو آج ہم کمزور بندے چاہتے ہیں کہ نکلیں اور اسلام ساری دنیا پر غالب آئے۔ذکر کا الف حصہ ہے۔45