تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 44 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 44

خطبہ جمعہ فرمودہ 08 فروری 1974ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم تیرے مہدی معہود کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے تیری طرف لونا اور تیرے قدموں پر آ کر گر گیا ہے، یہ کمزور انسان ہے۔جو تو نے منصوبہ بنایا ہے، اس سے تیری شان کے مطابق جو نتائج نکلنے چاہئیں، تو ہماری تدبیروں میں وہی برکتیں ڈال دے۔ولا فخر اور ہمیں کوئی فخر نہیں۔فخر کر ہی نہیں سکتا انسان۔یہی ہم نے سنت نبوی سے سیکھا اور یہی ایک حقیقت ہے۔جیسا کہ میں نے کہا، اگر پانچ لاکھ احمدی بڑا اور چھوٹا مردو زن اس روزے کی طرف ( جو میں تحریک کر رہا ہوں ، عبادات میں سے نمبر ایک) اس کی طرف توجہ کرے تو نو کروڑ روزے اس منصوبہ کے زمانہ میں رکھے جائیں گے۔اور نو کروڑ دنوں میں اس کے لئے خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے حضور اجتماعی دعائیں ہوں گی۔دوسری تحریک نوافل کی ہے۔یعنی با قاعدہ جس طرح نماز پڑھی جاتی ہے، نماز میں فرض بھی ہیں اور سنتیں بھی ہیں اور نوافل بھی ہیں۔نوافل کے متعلق میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہر احمدی، جس پر نماز فرض ہے ( بعض تو ایسے بچے ہوتے ہیں، جن کو شوقیہ اور شوق پیدا کرنے کے لئے اور نماز کی عادت ڈالنے کے لئے ہم نماز پڑھاتے ہیں۔ایک ایسی عمر ہے، جہاں نماز فرض ہو جاتی ہے۔تو ہر وہ احمدی بچہ یا بڑایا عورت، جن دنوں میں اس پر نماز فرض ہے، جس پر بھی نماز فرض ہے، وہ دورکعت نفل روزانہ پڑھے۔اس منصوبہ میں برکت پیدا کرنے کے لئے ، دعائیں کرنے کی غرض سے اور روزوں کے متعلق میرا اندازہ پانچ لاکھ افراد کا تھا لیکن نفلوں کے متعلق میرا اندازہ دس لاکھ افراد کا ہے۔اور دس لاکھ احمدی اگر روزانہ دو نفل پڑھ رہا ہو تو فی روپیہ ( نو کروڑ روپیہا اگر آ جائے اس کے لحاظ سے فی روپیہ) ایک سو، بائیس نوافل بنتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے حضور جو ایک روپیہ قربانی کے لئے پیش کیا جائے ، ایک سو بائیس نوافل پڑھ کر دعائیں کر کے پیش کریں۔تا کہ عاجزی کا اور نیستی کا احساس ہمارے دلوں میں پیدا ہو۔اور ہمیں محسوس ہو کہ روپیہ دینا فخر کی بات نہیں ہے کہ ہم نے ایک روپیہ دے دیا یا ایک لاکھ روپیہ دے دیایا نو کروڑ رو پید اجتماعی طور پر دے دیا۔اصل تو یہ کہ جب تک نیک نیتی کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف جھکتے ہوئے مالی قربانی نہیں کی جاتی ، وہ اپنے نتائج نہیں نکالا کرتی۔تو روزہ ہر ماہ ایک اور نوافل ہر روز دورکعت۔اور ان کا جو وقت ہے، وہ عشاء سے لے کر صبح کی اذان کے درمیان یا نماز ظہر کے بعد کوئی وقت مقرر کر لیں۔یہ انفرادی ہے، سوائے اس کے کہ کہیں اکٹھے ہو کر بھی پڑھ لیں، مسجدوں میں جہاں تک ممکن ہو۔لیکن بہر حال یہ انفرادی نوافل ہیں۔جو بچے ہیں، وہ بعض دفعہ تو عشاء کی نماز میں بھی اونگھ رہے ہوتے ہیں۔ان کو یہ کہنا کہ تم تہجد پڑھو یا نماز عشاء کے بعد 44