تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 564 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 564

پیغام بر موقع جلسہ سالانہ جماعت احمد یہ انڈونیشیا تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم بیٹھے ہوئے ، آپ کو امام الزماں کی شناخت کی توفیق ملی۔اس فضل کے ساتھ آپ پر کچھ ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں ، جن کی طرف میں اس وقت آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ قرآن کریم اور احادیث اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات پر غور کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جماعت احمدیہ کی زندگی کی دوسری صدی، جواب سے دس گیارہ سال بعد شروع ہونے والی ہے، انشاء اللہ تعالیٰ غلبہ اسلام کی صدی ہوگی۔اس کے استقبال کے لئے میں نے جماعت احمدیہ کے سامنے صد سالہ جوبلی کا منصوبہ رکھا تھا۔اس منصوبے کے تحت ہم نے ہر ملک میں مساجد اور مشن ہاؤس تعمیر کرنے ہیں اور قرآن کریم ک تراجم کو دنیا بھر میں پھیلانا ہے۔سائنسی علوم کی ترقی کے باوجود دنیا سے امن وسکون کی فضا مفقود ہے۔یہ سکون و راحت اسلام کی پر امن تعلیم ہی سے میسر آسکتا ہے۔ہمارا فرض ہے کہ اس حسیں تعلیم کو محبت اور پیار مگر پوری توجہ اور دلسوزی سے دنیا کے تمام انسانوں تک پہنچادیں۔تاکہ سب کالے اور گورے اور مشرق اور مغرب میں بسنے والے امت واحدہ بن کر اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو سکیں۔اور توحید باری تعالیٰ کی شیریں آواز زمین کے چپہ چپہ سے بلند ہونے لگے۔اس کے لئے ہمیں اپنا مال ، اپنا وقت، اپنے آرام کی قربانی دینی ہوگی۔تاکہ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ کی پیش گوئی اپنی پوری شان سے پوری ہو سکے۔دوسری بات اس ضمن میں، میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ محض نعروں سے دنیا میں کوئی دیر پا انقلاب پیدا نہیں کیا جاسکتا۔اسلامی نظام کا نعرہ تو ہر زبان پر ہے لیکن دنیا اس نظام کا عملی نمونہ دیکھنا چاہتی ہے۔خدائے تعالیٰ نے اس کام کے لئے اس زمانہ میں آپ کو منتخب کیا ہے۔اور یہ موقع عطا کیا ہے کہ آپ دنیا کے لئے عملی زندگی ، تقویٰ اور طہارت، صداقت و دیانت اور ہمدری اخلاق کا نمونہ بنیں۔لہذا آپ کو ہر آن یہ غور کرنا ہو گا کہ آپ کا گھر، آپ کا ماحول، آپ کا دوسروں سے سلوک ، اسلامی تمدن اور اسلامی معاشرہ کا نمونہ پیش کرتا ہے۔یہ کام کما حقہ سرانجام نہیں دیا جا سکتا ، جب تک کہ پوری توجہ کے ساتھ اپنے اہل خانہ اور اپنی اولادوں کی صحیح طریق پر تعلیم و تربیت کا معقول انتظام نہ کیا گیا ہو۔ہمیں محض اس بات سے مطمئن نہیں ہونا چاہئے کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مان لیا ہے۔اسلام کا عالمگیر غلبہ کی ایک نسل کی قربانی پر موقوف نہیں۔اس کے لئے نسلاً بعد نسلاً اور مسلسل اور پیہم جد و جہد کی ضرورت ہے۔564