تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 549 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 549

تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم اقتباس از خطاب فرموده 29 اکتوبر 1978ء نتیجہ میں معلوم ہوا کہ بہت سے لوگوں نے تحقیق کی تھی۔لیکن ان کی تحقیق کا نتیجہ کتابی شکل میں شائع نہیں ہوا تحقیق کر تھا، مسودے پڑے ہوئے تھے۔سویڈن کی ایک عورت نے لکھا کہ میرے باپ نے تو ساری عمر تحقی کے وہی نتیجہ نکالا تھا، جس پر آپ اس وقت کا نفرنس کر رہے ہیں۔اس لئے مجھے بہت دلچسپی ہے۔میرا باپ تو فوت ہو گیا ہے، مسودہ میرے پاس پڑا ہوا ہے۔اس کی زندگی میں نہیں چھپ سکا اور نہ میں چھاپ سکی ہوں۔آپ مجھے دعوت دیں کہ میں بھی آکر Attend کروں۔چنانچہ وہ بھی آگئی۔اور اسی طرح چھپے ہوئے اور بہت سے لوگوں کی طرف سے اطلاع آگئی کہ ہم نے بھی تحقیق کی ہے اور اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر نہیں مرے بلکہ زندہ اترے اور بعد میں لمبا عرصہ زندہ رہے اور انہوں نے بنی اسرائیل کے گمشدہ دس قبائل میں تبلیغ کی۔بارہ میں سے دس قبائل یعنی اسی فیصد لوگوں میں انہوں نے تبلیغ کی اور ان کو عیسائی بنایا اور ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور اسلام کو قبول کرنے کے لیے تیار کیا اور انہوں نے اسلام کو قبول کر لیا اور جنہوں نے قبول نہیں کیا، ان کو میں نے دعوت دی ہے۔میں چاہتا ہوں کہ چند منٹ کے لئے آپ اس انگریزی تقریر کا ایک حصہ سن لیں“۔(چنانچہ حضور رحمہ اللہ نے لندن کا نفرنس میں اپنی تقریر کا ایک حصہ تقریباً 05 منٹ تک ٹیپ ریکارڈ کے ذریعہ سنایا۔جس میں آپ نے احسن رنگ میں عیسائیوں کو خدائے واحد و یگانہ کی طرف اور اسلام کی طرف بلایا تھا۔)۔پھر فرمایا:۔بڑی وضاحت کے ساتھ اس کا نفرنس میں حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق قرآن کریم نے جو بیان کیا ہے اسے، اور انجیل میں اس وقت بھی اور ان حالات میں بھی جو حقیقتیں پائی جاتی ہیں انہیں ، تاریخ میں حضرت مسیح کے متعلق جو باتیں ہیں انہیں ، طب کی کتب میں حضرت مسیح علیہ السلام کے صلیب سے زندہ اترنے کے متعلق جو شہادتیں ہیں انہیں، اور اس قسم کے دیگر تمام مضامین کو بیان کیا گیا۔مختلف مقررین اور محققین نے ، جن میں احمدی بھی تھے اور وہ بھی تھے، جو احمدی نہیں، اسلام کی طرف منسوب ہونے والے ہیں اور عیسائی بھی تھے اور واللہ اعلم شاید بعض ایسے بھی ہوں ، جو عیسائیت کو چھوڑ چکے ہوں ، ان سب نے مقالے پڑھے اور ہر چیز کھول کر بیان کر دی۔بہت میں نے چونکہ آخر میں بولنا تھا، اس لئے میرے لئے وقت یہ تھی کہ مجھ سے پہلے ہر موضوع پر تفصیل کے ساتھ کوئی نہ کوئی بول چکا تھا، اس لئے۔اور میں خوش ہوں کہ اس لئے مجھے بہت دعائیں 549