تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 550
اقتباس از خطاب فرموده 29 اکتوبر 1978ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم کرنے کی توفیق ملی۔اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے مضمون میں شرمندہ نہ کیا۔بلکہ ایک نہایت اچھا اور مؤثر مضمون تیار ہو گیا۔اور جیسا کہ آپ نے سنا، جو چیز صرف میں ہی کر سکتا تھا، یعنی ان کو دعوت دینا ، اسلام کی طرف اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول کرنے کی طرف اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کر لینے کی طرف، وہ دعوت میں نے بڑے پیار کے ساتھ مگر زور دار الفاظ میں ان تک پہنچادی۔اور جن علاقوں کی خبریں اس انگریز ایجنسی کے پاس پہنچیں، جن کو ہم نے اطلاعات اکٹھی کرنے کے لئے مقرر کیا تھا، اس کے مطابق 14 کروڑ انسانوں تک یہ آواز پہنچ گئی۔لیکن یہ تعداد کم ہے۔کیونکہ ہماری اطلاع کے مطابق ان علاقوں کے علاوہ افریقہ کے عیسائی اخباروں نے اس کا نفرنس کے متعلق اور اس عقیدہ کے متعلق 4,4 صفحے کے ضمیمے لکھے۔اور ایک شخص کہنے لگے کہ مجھے میرے کسی واقف نے اطلاع دی ہے کہ ساؤتھ امریکہ میں (جہاں ہمارا کوئی مشن بھی نہیں اور ہمیں براہ راست کوئی اطلاع بھی نہیں آئی ) ایک اخبار نے نصف صفحے سے زیادہ ان عقائد کے متعلق خبر دی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصویر بھی شائع کی۔اسی طرح ایران میں اور ایشیاء کے بہت سے ملکوں میں چھپا۔جاپان میں ٹوکیو سے انگریزی کا ایک بہت بڑا اخبار نکلتا ہے، اس میں ایک لمبی خط و کتابت شائع ہوئی۔وہاں ہمارے مبلغ نے اس میں مضمون لکھا۔پھر کسی نے اس کے خلاف اور کسی نے اس کی تائید میں لکھا۔لمبا چوڑ اقصہ چلا۔اخبار کچھ عرصے کے بعد اسے بند کر دیتے ہیں۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ خود اخبار پر اتنا اثر تھا کہ انہوں نے ہمارے مبلغ کو لکھا کہ اب ہم صرف ایک خط شائع کرنا چاہتے ہیں، اس کے بعد بند کر دیں گے۔اور ہم چاہتے ہیں کہ آخری خط، جو شائع ہو، وہ تمہارا ہو۔چنانچہ ہمارے مبلغ کو موقع مل گیا اور انہوں نے سارا مواد اکٹھا کر کے مجموعی طور پر جو کچھ ہو چکا تھا اور جو چرچ کا رد عمل تھا، اس کے بارہ میں خط لکھ دیا۔دعوت تو خود چرچ نے دی تھی اور اب ان کا رد عمل بڑا عجیب ہے۔اگر ہم نے دعوت دی ہوتی تو تم کہتے کہ نہیں مانتے۔لیکن تم نے دعوت دی اور ہم نے مان لی اور خوشی سے مانی۔اور ہم نے کہا کہ پیار اور محبت کی فضا میں تبادلہ خیال ہونا چاہیے۔تا کہ دنیا پر حقیقت آشکار ہو اور جب ہم نے اسے مان لیا تو تم نے بہانے کرنے شروع کر دیئے۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ چلے گا نہیں۔کسی نہ کسی وقت عیسائی دنیا اپنے پادریوں کو مجبور کرے گی کہ وہ مذاکرہ کریں۔انشاء اللہ ! غرض یہ ایک بہت بڑا کام ہے، جس کے کرنے کی اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا کی ہے۔اور اگلی صدی کے استقبال کا جو منصوبہ ہے، اس کے لئے تیار کیا ہے اور عیسائی دنیا کو پکڑ کر جھنجھوڑا ہے۔سویڈن میں سٹاک ہام میں ایک پریس کانفرنس میں مجھ سے پوچھا گیا کہ کیا اس قبر کو کھود کر اس کی تحقیق ہونی چاہئیے ؟ میں نے کہا کہ ہونی چاہیئے۔کہنے لگے کہ ہوئی یا نہیں ؟ میں نے کہا، نہیں ہوئی۔550