تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 548 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 548

اقتباس از خطاب فرموده 29 اکتوبر 1978ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم کہ آپ بھی مذاکرے میں ، تبادلہ خیال میں شریک ہوں۔خواہ ان کے ساتھ مل کر یا علیحدہ ، جیسے آپ چاہیں۔ہمیں تو خدا نے پیدا ہی اس کام کے لئے کیا ہے۔ہم کسی سے گھبراتے تو نہیں۔غرض ایک تو اس دن اعلان ہو گیا۔اور پھر ان صاحب کو لکھ کر بھیجا گیا، جو غالبا سیکرٹری یا صدر ہیں۔جن کے دستخط سے وہ دعوت نامہ آیا تھا کہ امام جماعت احمدیہ نے اسے منظور کر لیا ہے، اب آپ شرائط طے کریں۔لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔غالباً 4, 3 ہفتے کے بعد میں نے کہا کہ تم خاموش کیوں بیٹھے ہو، ان کو یاد دہانی کراؤ ؟ پھر ان کو ایک Reminder بھیجا گیا، یاددہانی کرائی گئی۔اور اس کا جواب ایک اور پادری کی طرف سے آیا۔جو انہی کے ساتھی تھے۔انہوں نے ان صاحب کا نام لیا، جن کے دستخط سے پہلا خط آیا تھا اور لکھا کہ انہوں نے مجھے ہدایت کی ہے کہ میں آپ کو یہ خط لکھوں کہ وہ کہتے ہیں کہ مجھے تو اسلام کے متعلق کچھ پتہ ہی نہیں ہے، اس واسطے میں آپ کے قبول دعوت نامہ کا کیا جواب دوں؟ اس لئے وہ عیسائیت کے ماہروں سے مشورہ کر کے جواب دیں گے۔یہ نہیں لکھا کہ اس مشورہ پر وہ ایک مہینہ لگائیں گے یا ایک صدی لگائیں گے، یہ وہ جانیں۔واللہ اعلم۔میں نے وہاں سے ساری دنیا میں احمدیوں کو یہ کہا کہ تم اپنے اپنے ملکوں میں ان کا دعوت نامہ اور میرا جواب وہاں کے بشپس کو لکھو۔اور ان سے کہو کہ اگر تم تیار ہو تو ہم تمہارے ساتھ بھی تبادلہ خیال کرنے کے لئے تیار ہیں۔اس وقت جس فرقے کی طاقت سب سے زیادہ ہے، وہ کیتھولک ازم ہے۔اگر باقی سب فرقوں کو ملا کر ایک فرقہ سمجھا جائے۔تب بھی سب سے زیادہ طاقت کیتھولک ازم کی ہے۔چنانچہ میں نے کہا کہ کیتھولک بشپس کو ضرور لکھو۔اور ساری دنیا میں کیتھولک بشپس کو لکھا گیا۔لیکن اکثر نے جواب ہی نہیں دیا۔صرف چند ایک نے جواب دیا۔اور جنہوں نے جواب دیا، انہوں نے یہ جواب دیا کہ ہم جماعت احمدیہ سے کوئی گفتگو کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔اس کا نفرنس کے جو نتائج ابھی تک نکلے ہیں، وہ بڑے شاندار ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ صد سالہ منصوبہ کو خدا تعالیٰ نے یہ بڑی برکت عطا کی ہے کہ اس کے ذریعہ سے یہ کا نفرنس منعقد ہوئی اور غلبہ اسلام میں ہماری حرکت جو آگے ہی آگے بڑھ رہی ہے، اس میں اپنے اثرات کے لحاظ سے ایک نمایاں حصہ اس کا نفرنس کا ہے اور ہوگا۔ایک اور بڑا اچھا نتیجہ یہ نکلا کہ عیسائی محققین نے بھی تحقیق شروع کی تھی کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر نہیں مرے بلکہ زندہ اترے اور جو دس گمشدہ قبائل تھے، Lost Tribes Of Isreal ان میں جا کر انہوں نے تبلیغ کی اور کشمیر گئے اور وہاں وفات پائی اور وہاں ان کی قبر ہے۔چنانچہ اس کا نفرنس کے 548