تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 547
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم اقتباس از خطاب فرموده 29 اکتوبر 1978ء کرتے تھے اور ان کی دنیوی دولتوں پر بھی ڈاکہ مارا کرتے تھے Colonial Age میں ، جس وقت یہ لوگ سارے افریقہ میں اور ہندوستان میں بھی حاکم بن گئے تھے تو یہ ساری دنیا کی دولت لوٹ کر اپنے اپنے ملکوں میں لے گئے تھے اور یا یہ حال ہے کہ ایک مسلمان جماعت لندن میں آکر ، ہمارے ایک عیسائی ملک میں آکر ہماری ایمپائر، جو دنیا میں سب سے بڑی تھی ، اس کے دل میں اپنی کا نفرنس منعقد کر رہی ہے۔وہ ایمپائر، جس کے متعلق وہ یہ دعوی کرتے تھے کہ اس پر بھی سورج غروب نہیں ہوتا۔اس کا سورج غروب ہو گیا۔اور اس ایمپائر کے دل میں، اس کے مرکز میں کچھ نئی کرنیں ، اسلام کی روشنی کی کرنیں نظر آنے لگ گئیں۔یہ کیا بات ہوگئی ؟ اس گھبراہٹ کو دیکھ کر عیسائیت کے مختلف فرقوں نے ، جو وہاں ایک کونسل آف برٹش چر چز بنائی ہوئی ہے، ان کی طرف سے 23 مئی کو ہماری کانفرنس سے قریباً دس دن پہلے ایک ریلز جاری ہوئی اور اس کے نیچے ایک نوٹ تھا کہ اخبارات اس خبر کو کا نفرنس کی ابتداء تک شائع نہ کریں۔جب کا نفرنس شروع ہو تو اس وقت شائع کی جائے۔مجھے صحیح تاریخ یاد نہیں کہ انہوں نے مئی کا آخری دن مقرر کیا ہوا تھایا جون کا پہلا دن تھا۔کچھ اخباروں نے اسے شائع بھی کر دیا۔اس کی ایک کاپی انہوں نے ہمارے لندن مشن کو بھی بھیجی۔مجھے دکھائی گئی تو میں نے کہا کہ میں بڑا خوش ہوں کہ انہوں نے ہمیں دعوت دی ہے کہ اس مضمون پر ہمارے ساتھ Dialogue کرلو، مذاکرہ کر لو۔اس دعوت نامہ کے اندر ہمیں یہ عجیب بات نظر آئی کہ پہلے ایک خط تھا اور اس کے بعد پریس ریلیز تھی۔اور خط میں تھا کہ Open Dialogue یعنی کھلی بات چیت ہوگی، چھپی ہوئی نہیں ہوگی۔اور نیچے جو پریس ریلیز تھی، اس میں لکھا ہوا تھا کہ Unpublicised ہوگی، یعنی اسے شائع نہیں کیا جائے گا بلکہ چھپا کر رکھا جائے گا۔ایک ہی وقت میں وہ Open بھی ہوگی اور Unpublicised بھی ہوگی ، اس کا مطلب ہمیں سمجھ نہیں آیا۔بہر حال میں نے کہا کہ ہم اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔کانفرنس کے آخری دن 04 جون کو میں نے ایڈریس پڑھا۔اس کے بعد مکرم چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے کونسل آف چرچز کا دعوت نامہ پڑھ کر سنایا اور پھر اس کا جواب خود میں نے پڑھ کر سنایا۔کچھ پوائنٹس تھے، ان کا جواب دیا۔اور میں نے کہا کہ بڑی اچھی بات ہے، ہم تو ہر وقت تیار ہیں۔اور صرف کونسل آف چرچز سے ہی نہیں بلکہ یہ مذاکرہ دنیا کے مختلف حصوں میں ہونا چاہیے۔ایشیاء میں بھی ہونا چاہئے، انگلستان میں بھی ہونا چاہئے اور امریکہ اور دوسری جگہوں میں بھی ہونا چاہئے۔اور صرف تمہارے مختلف چرچز کی تنظیم سے نہیں بلکہ کیتھولک ازم سے بھی ہونا چاہیے۔جو کہ سب سے بڑی اور مضبوط جماعت ہے۔جس کا Head روم میں پوپ ہے۔چنانچہ ان کو بھی میں نے دعوت دی مانے 547