تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 527 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 527

تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطاب فرمودہ 21 اکتوبر 1978ء میں نے ایک خطبہ میں بھی کہا تھا کہ مرکزی جماعتوں کے لئے خدا تعالیٰ نے ایک امتیاز پیدا کیا ہے کہ جب تک قانون اجازت دیتا رہا، ہمیشہ مرکزی جماعتوں نے (یعنی بٹوارے سے پہلے ہندوستان کی جماعتوں نے اور بٹوارے کے بعد پاکستانی جماعتوں نے) غیر ممالک میں تبلیغ اسلام کے لئے مالی قربانیاں دیں۔اب حالات تبدیل ہو گئے ہیں۔اب آپ باہر کے لئے قربانیاں نہیں دے سکتے۔لیکن باہر کی کسی جماعت سے ایک دھیلہ بھی جماعت احمدیہ نے قبول نہیں کیا اور نہ وصول کیا ہے۔اپنی جماعت نے بعض دفعہ پیشکش بھی کی غیروں نے تو کیا کرنی تھی۔ہمارے کام سے ہر ایک غصے ہو جاتا ہے۔عیسائی اپنی جگہ غصے ہیں کہ تم مسیح کو لعنتی کیوں نہیں مانتے؟ اپنا اپنا خیال ہے۔ہم کہتے ہیں کہ وہ خدا کے پیارے تھے، ملعون نہیں ہو سکتے۔اور وہ کہتے ہیں کہ ہم انہیں ملعون مانتے ہیں، آپ ملعون نہیں مانتے ، اس لئے ہم آپ سے غصے۔اسی طرح دوسرے مذاہب ہیں، ہم ان کی غلطیاں نکالتے ہیں۔اسلام کو غالب کرنے کے لئے اور اسلام کی حسین تعلیم ان کے سامنے پیش کر کے ان کا دل جیتنے کے لئے ، جب ہم اسے پیش کرتے ہیں اور اسلام کی تعلیم ان کے سامنے آتی ہے تو اپنی تعلیم کے متعلق وہ دیکھتے ہیں کہ اس کے اندر تو اب ہمیں کوئی حسن نظر نہیں آتا۔چنانچہ ان کا پہلا رد عمل تو یہی ہوگا کہ وہ غصہ کریں گے۔بہر حال یہ ایک حقیقت ہے کہ نہ جماعت ہائے احمد یہ بیرون مرکز سے اور نہ کسی اور ایجنسی سے ایک دھیلہ بھی آپ نے قبول کیا اور نہ آپ کو ملا۔اپنوں نے پیش بھی کیا لیکن میں نے انکار کر دیا۔میں نے کہا کہ نہیں، میری غیرت اسے قبول نہیں کرتی کہ میں اپنے احمدیوں سے یہ کہوں کہ پاکستانی جماعتوں کی ضرورت پوری کرنے کے لئے تم پیسے بھیجو۔پاکستان کی جماعتیں اپنے پاؤں پر کھڑی ہوں گی۔بہر حال اب آپ باہر مسجد نہیں بنا سکتیں۔لیکن کیا آپ کے دلوں میں ایمانی جوش ٹھنڈا پڑ جانا چاہئے؟ اور آپ کو قربانی نہیں دینی چاہئے؟ اگر آپ کے اندر ایمان ہے تو صرف قربانیوں کی شکل بدلے گی۔قربانیوں کی مقدار میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔بلکہ وہ پہلے سے زیادہ ہوں گی اور ہونی چاہئیں۔اس کے لئے میں نے ان آیتوں کے دو مضمون چنے ہیں۔ان میں بتایا گیا ہے کہ مومنوں کی ایک علامت یہ ہے کہ مومن خدا تعالیٰ کے حضور جھکتا ہے اور جھکتا ہی چلا جاتا ہے۔یہاں تک اس کے اپنے وجود کا ایک ذرہ بھی باقی نہیں رہتا۔اور سب کچھ وہ خدا کے سپر د کر دیتا ہے۔یہ وہ بلند مقام ہے، جہاں تک آپ پہنچ سکتی ہیں۔آپ بھی اور مرد بھی۔روحانی ترقیات اور رفعتوں کا حصول صرف مردوں کی اجارہ داری نہیں ہے۔جس طرح مرد خدا کے پیار کو حاصل کر سکتے ہیں، اسی طرح بغیر ایک ذرہ فرق کے آپ بھی حاصل کر سکتی ہیں۔اگر آپ کوشش کریں۔حضرت مسیح موعود کو خدا تعالیٰ نے کہا کہ یہ بتا د وسب کو کہ 527