تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 528 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 528

خطاب فرمودہ 21 اکتوبر 1978ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم ” جے توں میرا ہور ہیں ، سب جگ تیرا ہو“۔اگر تم اس کے ہو جاؤ تو اس عالمین کا ، اس یونیورس کا ، اس زمین و آسمان کا خالق و مالک یہ کہتا ہے کہ پھر یہ سب کچھ تمہارا ہو جائے گا۔جب اس ہر دو جہاں کے مالک نے تمہیں اپنا لیا، جب پیار سے اٹھا کر اپنی گود میں بٹھا لیا تو پھر کون سی چیز ہے، جو تمہاری نہ رہی ؟ اس طرف بھی میں تمہیں بلاتا ہوں۔تمہارے لئے گھاٹا نہیں ہے کہ تم یہ سمجھو کہ اگر ہم پاکستان کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے مال دیں گے تو ہم غریب ہو جائیں گے۔پہلے تو درجنوں مثالیں تھیں، اب ہزاروں مثالیں میں آپ کو دے سکتا ہوں کہ جنہوں نے مالی قربانیاں دیں اور ان کے اموال میں اتنی برکت پیدا ہوئی کہ انسان کا تصور بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔ان کا اپنا تصور بھی نہیں پہنچ سکتا تھا۔اور جنہوں نے اپنے اوقات کو اور اپنے نفوس کو خدا تعالیٰ کے حضور پیش کیا ، ان کے نفوس میں خدا تعالیٰ نے اتنی برکت دی کہ ہر سال یہاں جگہ کم ہو جاتی ہے۔آپ ہر سال اپنی مثال دیکھتی ہیں اور ہر مجلس اور ہر اجتماع میں ہمیں یہ نشان نظر آرہا ہے۔یہ لوگ کہاں سے آتے ہیں؟ کل میں خدام الاحمدیہ کے اجتماع میں گیا ، انہوں نے پچھلے سال کی نسبت بہت بڑا احاطہ بنایا ہوا تھا ، جس میں وہ ٹکٹ لے کر اندر جانے دیتے ہیں۔ان کو دیکھ کر میں سوچ میں پڑ گیا کہ یہ نوجوان آئے کہاں سے ! ایک سال کے اندر اتنے بڑھ گئے۔خدا نے دیئے۔خدا نے ان کی زندگیوں میں برکت ڈالی۔جو پچھلے سال اطفال میں تھے، آج وہ خدام میں آگئے اور وہ بڑی کثرت سے یہاں آئے۔پس یہ گھاٹے کا سودا نہیں ہے۔اب میں ایک اور رنگ میں کچھ زیادہ تفصیل کے ساتھ ان دو مضمونوں کی طرف آجاتا ہوں۔خشوع کے ساتھ دعائیں کرنا کوئی معمولی بات نہیں۔بلکہ یہ بہت ہی اہم ذمہ داری ہے۔آپ نے ساری دنیا کے انسان کے لئے دعائیں کرنی ہیں۔میں کہتا ہوں کہ ان کے لئے بھی، جن کے ملکوں کے نام بھی تمہیں نہیں آتے ہم خدا سے دعا کرو اور کہو کہ اے خدا!! جن ملکوں کے ہمیں نام بھی نہیں آتے ، ان کے باشندوں پر بھی رحم کر اور ان کے لئے ہدایت کی راہیں کھول۔تا کہ وہ تیری رضا کو اور تیرے فضل کو اور تیری برکات کو اور تیری رحمتوں کو حاصل کر سکیں۔یہ میں اس لئے کہتا ہوں کہ قرآن کریم کی پیشگوئیوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور خدا تعالیٰ نے جو نئے علوم اس زمانہ میں انسان کے ہاتھ میں دیئے ہیں، ان سے میں نے اپنی خلافت کے شروع میں اندازہ لگایا اور جب میں 67ء میں انگلستان گیا تو وہاں میں نے انتباہ اور بشارت پرمشتمل ایک چھوٹا سا مضمون پڑھا تھا اور اس میں، میں نے انہیں کہا تھا کہ سارے حالات کو دیکھتے ہوئے اور پیشگوئیوں پر غور کرتے ہوئے میرا اندازہ یہ ہے کہ ہیں ، پچیس سال کے اندر اندر ایک ایسی عظیم دونوں پر 528