تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 514 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 514

خطبہ جمعہ فرمودہ 20 اکتوبر 1978ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم جب میں جماعت ہائے احمد یہ مرکز یہ کہتا ہوں تو اس سے میری مراد 1947ء میں تقسیم ملک سے پہلے کی ہندوستان کی جماعتیں اور پھر پاکستان کی جماعتیں ہیں۔یعنی 1947 ء تک وہ جماعتیں مراد ہیں، جو ہندوستان میں بستی تھیں لیکن اس کے بعد ملک تقسیم ہوا اور پاکستان بن گیا تو جماعت احمدیہ کا مرکز پاکستان میں اس چھوٹے سے قصبہ میں قائم ہوا۔اس کے بعد جماعت ہائے مرکز یہ سے تاریخی لحاظ سے اور زمانہ کے لحاظ سے وہ احمدی دوست مراد ہیں، جن کی رہائش پاکستان میں ہے۔پس تقسیم ملک سے پہلے جو ہندوستانی جماعتیں تھیں اور اس کے بعد پاکستانی جماعتیں ہیں، ان کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق خلیفہ وقت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اسلام کی بڑھتی ہوئی تبلیغی ضروریات کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا ئیں اور مالی اور جانی قربانی پیش کریں۔اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ اس سارے عرصہ میں بیرونی ممالک میں جوں جوں ہمارا کام بڑھ گیا اور پیسوں کے لحاظ سے ضرورت پڑی، جو وہاں میسر نہیں آرہے تھے، مرکز سے بھجوائے گئے۔اور اس 44 سال کے عرصہ میں ایک پیسہ بھی باہر سے مرکز کو وصول نہیں ہوا۔اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے مرکز سے تعلق رکھنے والے احمدیوں کے لئے دوسروں کے مقابلہ میں امتیاز پیدا کر دیا۔مرکز نے بیرونی ممالک میں تبلیغ اسلام کے اخراجات کا بوجھ اٹھایا۔صرف تحریک جدید ہی نہیں ، جماعت احمدیہ کی نوے سالہ زندگی میں کبھی ایسا موقع نہیں آیا کہ مرکز کو ضرورت پڑی ہو، باہر سے روپیہ لینے کی یا با ہر سے ہمارے پاس ایک دھیلہ ہی آیا ہو۔1974ء کے حالات ایسے تھے کہ بیرونی ممالک کی بہت سی جماعتوں نے مجھے لکھا کہ ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں، آپ ہمیں اجازت دیں، ہم اپنے بھائیوں کی خبر گیری میں بھی شامل ہوں اور ان کے لئے پیسے اکٹھے کر کے مرکز کو بھجوائیں۔میں نے کہا نہیں، جماعت ہائے احمد یہ مرکز یہ خود اپنے پاؤں پر کھڑی ہوں گی ، ان کو تمہاری مالی امداد کی ضرورت نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو دیکھتے ہوئے اور جماعت ہائے احمد یہ مرکزیہ کے لئے غیرت رکھتے ہوئے ، میں نے ان کو یہ جواب دیا تھا۔خدا تعالیٰ نے فضل کیا۔بہت سے لوگوں کو یہ پتہ نہیں ہے کہ اس وقت جماعت نے کتنا خرچ کیا تھا۔صرف ان لوگوں پر جوان دنوں پریشان حال ربوہ میں اکٹھے ہو گئے تھے یا ان کا کچھ حصہ اپنے رشتہ داروں کے پاس چلا گیا تھا، ان کے کھانے پینے کا انتظام مرکز کو کرنا پڑا۔جس پر تیرہ، چودہ لاکھ روپے خرچ ہوئے تھے۔لیکن ایسے احباب کو غذائی ضروریات بہم پہنچانے کے لئے آپ نے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا اور نہ آپ کی خاطر میں نے کسی کے سامنے اپنا ہاتھ پھیلایا اللہ تعالیٰ ، جو علام الغیوب ہے، اس نے ایسے سامان پیدا 514