تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 515
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطبہ جمعہ فرموده 20 اکتوبر 1978ء کر دیئے کہ یہاں بھی میں نے کوئی تحریک نہیں کی تھی کہ جماعت پر انتابار پڑ گیا ہے۔جولوگ مالدار ہیں، جن کو نقصان نہیں پہنچا، وہ اس غرض کے لئے پیسے دیں۔غرض کوئی تحریک نہیں کی اور کسی کو پتہ بھی نہیں لگا اور خدا تعالیٰ کے فضلوں نے جماعت کو، جس کے متعلق لوگ یہ سمجھتے تھے کہ یہ ختم ہو گئی ، خدا کے فرشتوں نے اسے اٹھا کر کہیں سے کہیں پہنچا دیا۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے، جس کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔پس تحریک جدید پر غور کرتے ہوئے ، یہ چیز نمایاں طور پر میرے سامنے آئی اور اس کا میں اس وقت ذکر کر رہا ہوں۔اور میں اس بات کا اظہار کرنا چاہتا تھا تا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنیں۔تحریک جدید کے اجراء کے بعد دنیا میں بڑی عظیم تبدیلیاں پیدا ہوئیں۔اللہ تعالیٰ نے جماعت کی حقیر کوشش کو غیر معمولی طور پر نوازا۔آخر ایک لاکھ کی حیثیت ہی کیا ہے؟ میرے خیال میں جرمنی کے تین مزدوروں کو ایک سال میں ایک لاکھ سے زیادہ اجرت ملتی ہے۔غرض دنیا میں اتنی رقم کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔لیکن خدا تعالیٰ نے اس میں برکت ڈالی اور باہر کی جماعتوں میں آہستہ آہستہ ایک تبدیلی رونما ہونے لگی۔چنانچہ بیرونی ممالک کی جماعتیں مثلاً مغربی افریقہ کی جماعتیں ، جنہوں نے 1944ء تک ایک پیسہ بھی چندہ نہیں دیا تھا ، جو ہمارے رجسٹروں میں درج ہو۔یعنی با قاعدہ چندہ دینے والے اس وقت پیدا نہیں ہوئے تھے۔اور ان کی ضروریات دینیہ کا سارا بوجھ جماعت ہائے احمد یہ مرکز یہ اٹھا رہی تھیں۔اس لئے بھی کہ بیرونی ملکوں کی جماعتوں کی اس وقت تک کما حقہ تربیت نہیں ہو پائی تھی۔تبلیغی ضروریات کے لئے پیسہ باہر بھجوانے پر شروع میں کوئی پابندی نہیں تھی۔چنانچہ جتنی ضرورت پڑتی تھی، اتنا پیسہ ہم باہر بھجوا دیتے تھے۔لیکن پھر زر مبادلہ کے لحاظ سے ساری دنیا کے حالات بدلتے چلے گئے۔صرف ہمارے ملک ہی میں نہیں ، انگلستان، امریکہ اور جرمنی جیسے ممالک میں بھی حالات بدل گئے۔لیکن ان ممالک میں بھی ایسی پابندیاں نہیں۔شاید صرف یہ چند ممالک ہی اب ایسے رہ گئے ہیں، جنہوں نے اپنی کرنسی کو باہر لے جانے پر کوئی پابندی نہیں لگائی۔لیکن اکثر ممالک ایسے ہیں، جنہوں نے پابندی لگادی ہے۔اور وہ اپنے ملک کی اقتصادیات کی حفاظت کے لئے اگر پابندی لگا ئیں تو یہ ان کا حق بھی ہے اور ان کو ایسا کرنا بھی چاہیے۔غرض 1934ء میں ہمیں تو اس بات کا علم نہیں تھا کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے؟ لیکن اللہ تعالیٰ کو تو اس کا علم تھا۔اس لئے وہ لوگ ، جو ابتداء میں ایک دھیلہ بھی خدا کی راہ میں دینے کے لئے ذہنی طور پر تیار نہ تھے ، وہ چندے دینے لگ گئے۔اور آج اکثر بیرونی ممالک تو ایسے بھی ہیں، جو اپنے پاؤں پر کھڑے ہو گئے ہیں۔ان ممالک کے چندے اتنے ہو گئے ہیں کہ اپنی ساری ضروریات پوری کر کے بھی ان کے پاس 515