تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 508
خطبہ جمعہ فرمودہ 13 اکتوبر 1978ء تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم ڈر کے مارے کہتے ہو کہ ہم نے سائنسی تحقیق نہیں کروانی۔یہ میرا خیال ہے، صحیح ہے یا غلط، اللہ بہتر جانتا ہے۔اس دوسری سائنٹیفک تحقیق کے لئے کم و بیش پچاس سائنسدان آرہے ہیں۔امریکن چوٹی کے ماہرین بھی آرہے ہیں۔ساؤتھ امریکہ، جو کہ پکا کیتھولک ہے، وہاں کا ایک سائنسدان بھی انہوں نے شامل کر لیا ہے۔ٹھیک ہے، شامل کر لو۔لیکن اصل اعلان یہ ہے کہ ٹیورن میں وہ جو تحقیق کریں گے، تصویریں لیں گے اور تجربے کریں گے، اس کا نتیجہ میں سال کے بعد بتایا جائے گا۔تحقیق آج کر رہے ہو اور نتیجہ میں سال کے بعد بتاؤ گے، اس میں کیا حکمت ہے؟ بہر حال ایک فائدہ یہ ہوا ہے کہ اس طرح انہوں نے اپنی کمزوری کا اعلان کر دیا ہے۔اگر تمہیں دلیری ہوتی تو تم کہتے کہ یہ بھی کر کے دیکھ لو۔مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا تعالیٰ سے علم پا کر یہ فرمایا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر سرینگر محلہ خانیار میں ہے۔ہم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ نہ نہ اسے کھودنا نہ کہ ہمیں یہ وہم ہو کہ اگر اسے کھودا گیا تو اندر سے کچھ اور نکل آئے گا۔جیسے کہ لوگ اب یہاں تک پہنچے ہوئے ہیں کہ جب میں انگلستان میں تھا تو ہندوستان میں کسی نے یہ خبر چلا دی کہ وہ قبر کھودی گئی اور اندر سے گدھے کی قبر کھلی۔یہ بات ہندوستان کے کسی اخبار میں چھپ گئی۔حالانکہ قبر بالکل نہیں کھودی گئی۔پر یس کا نفرنس میں مجھ سے پوچھتے بھی رہے اور میں کہتا رہا ہوں کہ ضرور کھودنی چاہیے۔ہم نے وہاں ریزولیوشن بھی پاس کیا تھا۔اس کی تحقیق ہونی چاہیے۔کھودنے کا یہ مطلب نہیں ہے، وہ قبر کھودی جائے۔بلکہ وہاں جو ہمیں قبر نظر آتی ہے، وہ مصنوعی حصہ ہے، اصل قبر نیچے ہے۔یہ پرانا طریق ہے کہ اصل قبر سے آٹھ ، دس فٹ اوپر ایک کمرے میں اسی شکل کی ایک مصنوعی قبر بنادیتے تھے۔یہ جو قبر ہے، اس کی دیواروں پر جہاں چراغ رکھنے کے لئے جگہ بنی ہے، وہ لکڑی کی صلیب ہے۔کسی خانقاہ میں کسی مسلمان کی قبر پر صلیب بنا کر دیا نہیں رکھا جاتا۔لیکن وہاں پرانی صلیب بنی ہوئی ہے اور اس پر دیے رکھے جاتے ہیں۔یہ درست ہے کہ میں سو سال میں کئی دفعہ مرور زمانہ سے مقبرے کی عمارت مرمت طلب ہوئی ہوگی اور مرمتیں ہوئی ہوں گی ، اسلام سے پہلے بھی اور اسلام کے بعد بھی۔لیکن وہ صلیب کا نشان بتا رہا ہے کہ یہ کسی مسلمان کی قبر نہیں ہے۔غرض یہ کانفرنس خدا کے فضل سے بڑی کامیاب رہی۔لیکن یہ نہیں کہ یہ کافی ہے۔بلکہ یہ ہم نے ایک اور قدم آگے بڑھایا ہے۔اور اس کے بعد بہت سے اور قدم آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔جب تک دنیا میں عیسائی موجود ہیں، ان کو اسلام کی طرف لانا، ان کی خیر خواہی کے لئے ، تاکہ وہ خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کریں۔ہماری یہ جدو جہد اور یہ جہاد تو جاری رہنا چاہیے اور جاری رہے گا۔ابھی تو یورپ میں 508