تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 487
تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم ارشادات فرموده دوران دورہ یورپ 1978ء ہسپتال، سکولز اور کالج کھولے ہیں۔اپنے بھائیوں اور بہنوں کے لئے یہ خدمات بجالانا، ہمارا فرض اور خصوصی استحقاق ہے۔اور ہم بڑی بشاشت کے ساتھ رفاہ عامہ کے یہ کام انجام دے رہے ہیں۔آپ نے مزید فرمایا۔دنیا میں احمدیوں کی تعداد ایک کروڑ سے زیادہ ہے۔ان میں سے بعض اہم عہدوں پر فائز ہیں اور گرانقدر خدمات بجالا رہے ہیں۔اتنی سال پہلے ہماری تعداد چند ہزار سے زیادہ نہ تھی۔آج یہ تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔قریب مستقبل میں دنیا بھر کے ممالک میں احمدیوں کی تعداد کئی کروڑ تک پہنچ جائے گی۔یہ ہماری امید اور خوش فہمی نہیں ہے۔بلکہ یہ ایک خدائی تقدیر ہے۔(جو بہر حال پوری ہوگی۔“۔( مطبوعه روزنامه افضل 14 جون 1978 ء ) (بحوالہ : Puincy and Rochampton Herald لنڈن کیم جون 1978ء) 10 جون، برمنگھم حضور نے ایران، تاشقند ، ترکی اور بعض عرب ممالک میں احمدیت کے پیغام کے پہنچے کا تفصیل سے ذکر کیا اور فرمایا:۔اللہ تعالیٰ نے احمدیت کا ملک ملک میں بیج پھینکا ہوا ہے۔آپ نے بتایا کہ ’ایک دفعہ ایک عرب ملک کا وفد نائیجیر یا گیا ، وہاں احمد یہ مسلم مشن کی طرف سے ہر بڑے ہوٹل کے ہر کمرے میں قرآن کریم مع انگریزی ترجمہ کا ایک نسخہ رکھوایا گیا ہے۔جب یہ قرآن وفد کے ایک معزز رکن کی نظروں سے گزرا تو اس نے حیران ہو کر مشن کو فون کیا کہ کیا احمدی یہاں بھی پہنچ گئے ہیں؟ خیر ہمارے مبلغ اور کچھ مقامی افریقن دوست ان سے ملے تو انہوں نے بتایا کہ ان کے والد احمدی ہوئے تھے۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں کا بڑا مطالعہ کیا۔اور اپنے بچے اور بچیوں کے دلوں میں احمدیت کو اس قدر راسخ کر دیا کہ باوجود اس بات کے کہ ان کے والد کا 1942ء میں انتقال ہو گیا تھا۔اور مرکز سے ملاپ نہ رہا۔اس کے باوجود وہ احمدیت کو نہیں چھوڑ سکتے“۔حضور نے فرمایا:۔”یہ امر انگلستان کے احمدیوں کے لئے زبردست لمحہ فکریہ ہے۔ان کو بھی چاہیے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں کا خود مطالعہ کریں اور بچوں کی تعلیم و تربیت اس رنگ میں کریں کہ ان کے دلوں میں احمدیت راسخ ہو جائے۔اور پھر زمانہ کی کوئی تیرگی انہیں احمدیت سے محروم نہ کر سکے۔487