تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 476
خطبہ جمعہ فرمودہ 09 جون 1978ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم شاید کسی نے یہ خیال کیا ہو کہ اتنا بڑا واقعہ ہو گیاڈ وئی کے ساتھ اور عیسائیت کو اس قدر عظیم شکست ہو گئی، اب شاید کوئی فوری انقلابی تبدیلی ظاہر میں نظر آنے والی پیدا ہو جائے عیسائی دنیا میں۔لیکن ایسا نہیں ہوا۔کیونکہ مقدر یہ ہے اور پہلے سے یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ یہ جہاد جاری رہے گا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالی کی طرف سے یہ بتایا گیا ہے کہ ابھی تین صدیاں نہیں گزریں گی یعنی تین صدیاں حتمی ہیں، ان کے اندر اندر ہو سکتا ہے، ڈیڑھ صدی میں، اور ہوسکتا ہے دو صدیاں لگ جائیں، اس عرصہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ کا یہ اعلان اپنی پوری شان کے ساتھ دنیا کے سامنے عملاً ایک صداقت کی شکل اختیار کر جائے گا۔اور واقع میں اسلام دنیا کے ہر خطہ میں اور دنیا کے ہر مذہب پر غالب آئے گا۔اور دنیا میں اسلام ہی اسلام ہوگا اور ایک ہی خدا ہو گا، جس کی پرستش کی جائے گی۔اور ایک ہی پیشوا ہوگا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، جس کی عظمت اور جلال کے ترانے گائے جائیں گے۔یہ جو ہماری کا نفرنس ہوئی ہے، یہ بھی اسی جہاد کا ایک حصہ ہے۔یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ 2,3,4 جون کو ہماری کانفرنس ہوئی اور 05 جون کو ساری دنیائے عیسائیت نے اسلام کو قبول کر لینا ہے۔یہ ایک اور قدم ہے، جو آگے بڑھا ہے۔امت محمدیہ نے تبلیغی میدان میں خدائی وعدوں کے مطابق جتنے قدم آگے بڑھائے ہیں، ان میں سے ہر قدم پر مخالفین کی زندگی میں ایک موافق اسلام حرکت پیدا ہوتی رہی ہے۔اور ان کی جڑوں کو ہلا کر رکھ دیا جاتارہا ہے۔شروع سے آخر تک ہمیں یہی نظر آتا ہے کہ آہستہ آہستہ عظیم تبدیلیاں رونما ہوتی رہیں۔یہ ایک بہت لمبا مضمون ہے، اس کے لئے ساری صدیوں پر غور کرنا پڑے گا۔ہم جب اپنے زمانہ پر غور کرتے ہیں تو ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ اسلام نے عیسائیوں کی زندگی میں ایک عظیم انقلاب اور تبدیلی پیدا کر دی ہے۔ایسے ہی جیسے کسی چیز کو جنجھوڑ کر رکھ دیا جائے۔اسی طرح غیر مذاہب کی حالت ہو گئی ہے۔لیکن ابھی یہ وقت نہیں آیا کہ ہم آرام کریں اور سمجھ لیں کہ جو کام ہم نے کرنا تھا، وہ کر لیا ہے۔ابھی ہماری کئی نسلوں کو خدا اور خدا کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے قربانیاں دینی پڑیں گی۔ابھی کئی میدانوں میں ہمیں ادیان باطلہ کا مقابلہ کرنا پڑے گا، دلائل کے ساتھ بھی اور آسمانی نشانوں کے ساتھ بھی اور قبولیت دعا کے ساتھ بھی۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض چیلنجز (Challenges) کو سیحی دنیا کے سامنے دہرایا تھا۔یہ 1967ء کی بات ہے۔ابھی تک انہوں نے چیلنج قبول نہیں کیا۔تین سال ہوئے ، ڈنمارک کے ایک صحافی ربوہ آئے تو ان سے میری بات ہوئی تھی۔کہنے لگے، پادری کہتے ہیں کہ حضرت صاحب 476