تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 477
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطبہ جمعہ فرمودہ 09 جون 1978ء نے بڑی سختی کی تھی۔میں نے کہا، میں نے سختی تو کوئی نہیں کی تھی۔میں نے تو ان کو یہ کہا تھا کہ آؤ مقابلہ کر لو۔خدا تعالیٰ آپ ہی فیصلہ کر دے گا کہ وہ کس کے ساتھ ہے اور کس کے ساتھ نہیں ہے۔وہ کہنے لگا، اچھا یہ بات ہے، میں جا کر ان کی خبر لیتا ہوں۔یہ تو مجھے علم نہیں کہ اس نے خبر لی یا نہیں لی۔لیکن اس کے دماغ پر یہ اثر ضرور تھا کہ اس کو نفی نہیں کہا کرتے۔پس ہم تو عیسائیوں سے کہتے ہیں، ہمارے ساتھ محبت کے ساتھ اور آشتی کے ساتھ اور صلح کی فضا میں تبادلہ خیال کرو۔جہاں تک مذہب کا سوال ہے، اس کا تعلق انسان کے دل اور دماغ کے ساتھ ہے۔جسے انگریزی میں Heart اور Mind کہتے ہیں، ان کے ساتھ مذہب کا تعلق ہے۔انسان دوسرے کا دل جیتا ہے، پیار کے ساتھ اور Mind جیتتا ہے، دلائل اور نشانات کے ساتھ۔پس اسلام میں حسن واحسان بھی بڑا ہے اور اس کی تعلیم میں صداقت اور شوکت بھی بڑی ہے۔اور اس کی صداقت کے اظہار کے لئے اللہ تعالیٰ اپنی قدرتوں کے جو نشان ظاہر کرتا ہے، اس کی عظمت کے سامنے تو کوئی دوسری چیز ٹھہر نہیں سکتی۔غرض ایک قدم ہم نے اور اٹھایا۔ہماری نسل، جو آج زندہ ہے اور جوان ہے اور ذمہ داریوں کو اٹھائے ہوئے ہے، ان کو پتا نہیں اس میدان میں کتنے اور قدم اٹھانے پڑیں گے۔اس کے بعد پھر دوسری نسل آجائے گی اور پھر اگلی نسل آجائے گی۔میں نے کئی دفعہ پہلے بھی کہا ہے کہ میرے اندازہ کے مطابق جماعت احمدیہ کی جو دوسری صدی ہے، وہ غلبہ اسلام کی صدی ہے۔یعنی ہماری جماعت احمدیہ کی زندگی کی دوسری صدی میں وہ تمام وعدے، جو غلبہ اسلام کے لئے کئے گئے تھے، وہ انشاء اللہ پورے ہوں گے۔اور وہ عظیم مجاہدہ، جو بعثت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شروع ہوا تھا، وہ اپنے انتہائی عروج کو پہنچ جائے گا اور اسلام ہر طرف پھیل جائے گا۔لیکن یہ سمجھنا کہ جون کی پانچ تاریخ ہمارے لئے سو جانے کا دن تھا، صحیح نہیں۔وہ ہمارے لئے سو جانے کا دن نہیں تھا۔23 اور 4 جون کو ہماری کانفرنس تھی اور پانچ کو پھر ہمارے لئے مجاہدہ کا دن ہے، آرام کا دن نہیں تھا۔سچی بات تو یہ ہے کہ ہمارے سکھ اور آرام اور چین کا وہ دن ہو گا۔جب دنیا کی بڑی بھاری اکثریت کے دل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جیت لئے جائیں گے اور دنیا کے ہر گھر پر توحید کا جھنڈا لہرا رہا ہوگا۔پس تم دعائیں کرو اور اپنے مقام کو پہچانو۔اور جو ذمہ داریاں ہیں، ان کو سامنے رکھ کر اپنی زندگی کے دن گزارو۔اور عاجزی سے خدا سے یہ دعا کرو کہ وہ آپ کو بھی اور مجھے بھی اپنی رضا کی راہوں پر چلائے ، ہماری حقیر قربانیوں کو قبول فرمائے اور جتنی بھی قربانیاں ہیں، ان میں بے شمار گنا زیادہ برکت ڈال دے۔تا کہ ہم کامیابی کا دن دیکھنے والے ہوں۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔( مطبوعه روزنامه الفضل 06 جولائی 1978ء) 477