تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 451 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 451

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم ارشاد فرمودہ 03 اپریل 1977ء کہ میں نے فلاں فلاں جگہ کام کیا، یہ کیا، وہ کیا، جس وقت وہ خاموش ہو تو میں نے آہستگی اور پورے تحمل اور مسکراتے چہرے کے ساتھ اس کو کہا، مجھے بڑا افسوس ہے کہ ہمارے کالج میں تعلیم بالغاں کا انتظام نہیں۔تو وہاں بھی ہم بوڑھوں کو داخل نہیں کرتے تھے۔اس کے لئے یہ ٹھیک ہے، جو انہوں نے کارسپانڈنس کورس کی تجویز دی ہے۔کیونکہ ان کے لئے بھی ترقی کی راہیں اگر کھل سکتی ہیں تو ہمیں بند نہیں کرنی چاہئیں۔یہ بھی ایک حقیقت ہے۔ہم تو ساری دنیا کی بھلائی اور خیر خواہی کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔بہر حال اب میں نے جامعہ احمدیہ کو یہ کہہ دیا ہے کہ جو 17 سال سے زیادہ عمر کا بچہ ہے، اسے تم نہیں داخل کرو گے۔پہلی کلاس کو میں ملا کرتا ہوں، ہر سال کی پہلی اور آخری کلاس سے۔آپ اسے انٹرویو کہہ لیں یا میری ملاقات، جو ہر سال ان سے ہوتی ہے۔وہاں میں نے عمریں پوچھیں تو معلوم ہوا 23,24 سال کا لڑ کا جامعہ کی پہلی کلاس میں پڑھ رہا ہے۔میں نے ان کو کہا کہ آئندہ یہ نہیں ہوگا۔میرے خیال میں وہ بھی نکل جائیں گے۔لیکن یہ بالکل نہیں ہونا چاہئے۔ہمارا ماحول ٹھیک نہیں رہتا۔جوتعلیمی میدان میں رہے ہیں ، وہ اس چیز کو جانتے ہیں۔بہر حال اب یہ کمیٹی بن گئی ہے، یہ غور کر لیں گے۔اور جو ذہین بچہ ہے، جس نے 14 سال کی عمر میں میٹرک کیا یا 18 سال میں اس نے بی اے کر لیا ہے، وہ آجائے۔یا پندرہ سال میں میٹرک کیا اور 17 سال میں ایف اے کیا ، وہ آجائے۔مولوی احمد خان نسیم مرحوم، اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے، انہوں نے اپنے بیٹے کو وقف کیا ہوا تھا۔بڑا پیارا بچہ ہے۔وہ میرے بڑے بے تکلف دوست تھے۔جب ان کے لڑکے نے امتحان پاس کیا تو اس نے بڑے اعلیٰ درجے کی فرسٹ ڈویژن لی۔تو وہ میرے پاس آگئے اور بڑے آرام سے کہنے لگے کہ یہ اس نے نمبر لئے ہیں، کیا مشورہ ہے، آپ کا؟ یہ بی اے کرنے کے بعد جامعہ میں جائے یا ابھی چلا جائے۔میں نے کہا، ابھی چلا جائے۔میں نے کہا، میں اس کو بی اے بالکل نہیں کرنے دوں گا۔جو نخد لڑکے ہیں، جامعہ صرف ان لوگوں کے لئے رہ گیا ہے؟ جامعہ میں تو دراصل جماعت احمدیہ کی ، جس کو انگریزی میں کریم (Cream) کہتے ہیں، جو سب سے لائق بچہ ہے ، وہ جامعہ میں آنا چاہئے۔پھر اس کے بعد کسی اور طرف جانا چاہیے۔اور اللہ تعالیٰ بڑا افضل کرنے والا ہے۔جو بچے جامعہ احمدیہ میں داخل ہوتے ہیں، ان کو کیا پرواہ ہے؟ ان کا تو صحیح معنی میں، پورے طور پر، بغیر کسی مادی تدبیر اور واسطہ کے خدا تعالی والی وارث ہے۔وہ تو گھاٹے میں کوئی نہیں رہتے۔اگر وہ خدا پر 451