تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 371
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم فرمایا:۔خطبہ جمعہ فرمودہ 28 اکتوبر 1977ء یہ خیال رکھنا کہ کسی شعبہ زندگی میں بھی اس توازن کے اصول کی خلاف ورزی سرزد نہ ہو۔کیونکہ اس سے تمہیں تکلیف پہنچے گی۔غرض انسان کی جسمانی طاقتوں کی حفاظت کے لئے اور ان کی صحیح اور کامل نشو و نما کے لئے جس ہدایت کی ضرورت تھی، وہ انسان کو دے دی گئی ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو ذہنی قوتیں بھی عطا کی ہیں۔خدا تعالیٰ نے انسان کو یہ طاقت دی ہے کہ وہ علم حاصل کرتا ہے اور علم کے میدانوں میں ترقیات کرتا ہے۔وہ اپنی انفرادی زندگی میں بھی اور اجتماعی زندگی میں بھی انقلاب ہائے عظیم پیدا کرتا رہا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صرف یہی نہیں کہ انسان کو پہنی قوتیں دی گئی ہیں بلکہ اس کو بے راہ روی اور بھٹکنے سے بچانے کے لئے بھی اسے تعلیم دی گئی ہے۔اور وہ راہیں بھی بتادی گئی ہیں، جن پر چل کر وہ حقائق اشیاء تک پہنچ سکتا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے ذریعہ ہمیں یہ دعا بھی سکھلائی گئی ہے۔رب ارنى حقائق الاشياء کہ اے میرے رب! مجھے حقائق اشیاء معلوم کرنے کی توفیق عطا فرما۔بعض دفعہ احمدی نوجوان طالب علم مجھ سے ملنے کے لئے آتے ہیں تو میں ان سے کہا کرتا ہوں کہ دیکھو، قرآن کریم نے ہر علم کے متعلق بنیادی اصول بتا دیئے ہیں۔اب یہ ہمارا کام ہے کہ ہم ہر علم کی حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کریں۔ایک دفعہ حساب کے ایم ایس سی کے احمدی طلباء کا ایک گروپ ملاقات کے لئے آیا۔میں نے ان سے کہا، تم حساب کی اعلی تعلیم حاصل کر رہے ہو، لیکن کیا تمہیں معلوم ہے، حساب کے ماہرین نے یہ کہا ہے کہ حساب کی بنیاد چند مفروضات پر ہے؟ یعنی انہوں نے بعض باتیں خود ہی فرض کر لی ہیں۔اگروہ بنیاد بیچ میں سے نکال دی جائے تو علم حساب کی عمارت زمین پر گر پڑتی ہے۔لیکن اسلام نے یہ نہیں کہا کہ حساب کی بنیاد مفروضات پر ہے۔اسلام نے یہ کہا ہے کہ حساب کی بنیاد حقائق اشیاء پر ہے۔ویسے یہ ایک لمبا مضمون ہے، ایک دو فقروں میں ہی اشارہ کر سکتا ہوں۔قرآن کریم نے کہا ہے کہ مکان اور زمان کے لحاظ سے ایک نسبت قائم ہے۔اور ان نسبتوں پر حساب کے علم کی بنیاد ہے۔مثلاً ایک آدمی آج سے پندرہ سال پہلے پیدا ہوا اور ایک پچاس سال پہلے پیدا ہوا۔یہ زمانہ کے لحاظ سے نسبتیں ہیں۔اور ایک مکان کے لحاظ سے نسبت ہے۔مثلاً یہ کہ زمین سورج سے اتنی دور ہے اور اس رفتار سے حرکت کر رہی ہے۔پس قرآن کریم کا یہ کہنا کہ حساب کی بنیادز مانی اور مکانی نسبتوں پر رکھی گئی ہے، ایک عظیم حکمت پر مبنی ہے۔371