تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 372
خطبہ جمعہ فرمودہ 28 اکتوبر 1977ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم پچھلے دنوں کچھ غیر احمدی طلباء ملنے کے لئے آئے۔وہ سوشیالوجی کے طالب علم تھے۔ان سے بھی میں نے سوال کیا کہ بتاؤ تمہارے علم کی بنیاد کس چیز پر ہے؟ ان میں سے ایک لڑکا گھبرا گیا۔پھر میں نے بتایا کہ دیکھو، آج کی مہذب دنیا نے معاشرہ کے موضوع پر کتابیں لکھی ہیں۔انہوں نے اس علم کو مدون کیا اور اسے ایک سائنس اور علم بنا کر دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔لیکن وہ بھی اس سوال کا صحیح جواب نہیں دے سکتے۔اس کا صحیح جواب اسلام نے دیا ہے۔چنانچہ میں نے ان کو تفصیل سے سمجھایا اور بتایا کہ خواہ دنیا کا کوئی علم ہو، قرآن کریم نے ہر علم کے متعلق بنیادی ہدایت دی ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔إِنَّا هَدَيْنَهُ السَّبِيلَ ہم نے انسان کو اس کی ذہنی طاقتوں کے مناسب حال ہدایت دے دی ہے۔اسی طرح اخلاقی طاقتیں ہیں۔انسان کو اخلاقی صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ان کے متعلق قرآن کریم میں بڑی تفصیل سے ہدایت پائی جاتی ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس موضوع پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔قرآن کریم اخلاقیات سے بھرا پڑا ہے۔اخلاق کی حفاظت کیسے کرنی ہے؟ اور ان کو ترقی کیسے دینی ہے؟ حسن معاملہ کیا ہے؟ غرض اخلاقیات کے جملہ پہلوؤں سے متعلق قرآن کریم میں تفصیل۔ہدایت دی گئی ہے۔یہ ایک کامل کتاب ہے، جومحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہمارے ہاتھ میں دی گئی ہے۔اس میں اخلاقیات یعنی حسن معاملہ کے متعلق ایک کامل ہدایت موجود ہے۔اسی طرح روحانی استعداد میں ہیں۔قرآن کریم نے بڑی تفصیل سے انسان کی روحانی حالتوں کو بیان کیا ہے۔اور روحانی ترقی کے حصول کے طریق بھی بتائے اور ان طریق کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے ہلاکتوں کا بھی ذکر کیا۔اور ان کی وجوہات کی طرف بھی اشارہ کیا۔ایک جگہ فرمایا کہ بعض لوگوں کو ہم اونچا کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ - (الاعراف : 177) زمین کی طرف جھک جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے روحانی رفعتوں کے حصول کے جو سامان پیدا کئے ہیں، ان سے وہ خود اپنے آپ کو محروم کر لیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، ساری ہدایتیں تو دے دیں لیکن یہ ہدایتیں دینے کے بعد 372