تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 370
خطبہ جمعہ فرمودہ 28 اکتوبر 1977ء ایک مشاہدہ کی قوت یعنی بینائی۔اور ایک دوسروں سے سیکھنے کی قوت۔تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم اللہ تعالیٰ کا یہ بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے انسان کو سمیع اور بصیر بنایا ہے۔وہ ان خداداد قوتوں کے ذریعہ دوسروں کے تجربوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔إِنَّا هَدَيْنَهُ السَّبِيْلَ (الدھر:04) ہم نے انسان کو ہدایت کا راستہ دکھا دیا ہے، یعنی اس کے مناسب حال جو راہ تھی ، وہ اس کو دکھا دی ہے۔اور اس کے مقصد حیات کو پورا کرنے والی اور اس کو خدا کی طرف لے جانے والی اور خدا تک پہنچانے والی جو ہدایت ہے ، وہ اس کو دے دی ہے۔اب یہ انسان کا کام ہے کہ وہ اس سے فائدہ اٹھائے یا نہ اٹھائے۔چنانچہ جب ہم انسان کی طاقتوں پر نظر ڈالتے ہیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہدایت کی وہ راہ ، جو اس کی جسمانی قوتوں کی نشو و نما کے لئے ضروری تھی ، وہ اس کو مل گئی ہے۔اور اگر انسان اس پر چلے تو وہ مضبوط سے مضبوط جسم والا انسان بن سکتا ہے۔اور انسان کی جسمانی طاقتیں اپنے کمال کو پہنچ سکتی ہیں۔غرض قرآن کریم نے انسان کی دوسری طاقتوں کے علاوہ اس کی جسمانی طاقتوں کی حفاظت کے لئے اور ان طاقتوں کی نشو ونما کے لئے بھی ہدایت دی ہے۔پھر نواہی یعنی برے کاموں سے روکنے والے احکام ہیں، جو انسان کو تباہی اور ہلاکت سے بچاتے ہیں۔مثلاً انسان کی جسمانی طاقتوں کے لئے کھانا ایک ضروری چیز ہے۔لیکن بہت سی چیزیں کھانے سے منع کر دیا۔اور جو حلال چیزیں تھیں اور جن کے استعمال کی اجازت دی تھی ، ان کے متعلق بھی یہ کہا کہ دیکھو، انسان انسان کی طبیعت میں فرق ہے، بعض حلال چیزیں بعض انسانوں کے موافق آئیں گی ، بعض کے موافق نہیں آئیں گی۔اس لئے صرف حلال ہی نہیں، طبیب کھایا کرو۔تم یہ دیکھا کرو کہ تمہیں کون سی چیز موافق ہے؟ وہ کون سا کھانا ہے، جو تمہاری طاقت کو قائم رکھنے والا ہے اور جس کے نتیجہ میں تم اپنی ذمہ داریوں کو اچھی طرح نباہ سکتے ہو؟ آج کی دنیا بڑا فخر کرتی ہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ غذا میں توازن (Balance) کا اصول انہوں نے معلوم کیا ہے۔حالانکہ قرآن کریم نے یہ پہلے ہی بتا دیا تھا کہ خدا تعالیٰ نے ہر چیز میں توازن کا اصول قائم کیا ہے۔اس لئے فرمایا:۔أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ 370 (الرحمن: 09)