تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 369
تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پچیم تحریک جدید ایک الہی تحریک ہے خطبہ جمعہ فرمودہ 28اکتوبر 1977ء تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔خطبہ جمعہ فرمودہ 28 اکتوبر 1977ء اس کا ئنات میں اللہ تعالیٰ نے تدریج کا اصول جاری کر رکھا ہے۔خدا تعالیٰ اپنی حکمت کا ملہ سے ایک چھوٹی سی چیز کو پیدا کرتا ہے اور پھر وہ اپنی صفات کے جلووں کے ذریعہ اس کو بتدریج بڑھاتا ہے۔یعنی ہر چیز کو آہستہ آہستہ وہ شکل دی جاتی ہے، جو اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتی ہے۔انسان کی پیدائش کے متعلق قرآن کریم نے بتایا ہے کہ اسے نطفہ سے پیدا کیا گیا ہے۔وہ رحم مادر میں مختلف مدارج سے گزرتے ہوئے بچہ بنتا ہے۔اور پیدائش کے وقت اس بچے کی جو کیفیت ہوتی ہے، وہ سب جانتے ہیں۔پھر وہی بچہ بڑا ہو کر آسمان کے ستاروں کو توڑنے کی کوشش کرتا ہے۔چاند کے او پر بھی اس کا پاؤں لگ جاتا ہے۔لیکن پیدائش کے وقت اس کی جو حالت ہوتی ہے، اس میں بتدریج ترقی ہوتی ہے۔اور اس کی قوتیں آہستہ آہستہ نشو و نما پاتی ہیں۔اور ہر انسان اپنی استعداد کے مطابق اپنے کمال کی طرف حرکت کرتے ہوئے ترقی کر رہا ہوتا ہے۔اگر وہ خوش قسمت ہو اور اس کی تدبیر مقبول ہو اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت پر قائم رکھے تو وہ اپنے دائرہ استعداد میں بالآ خر کمال کو پہنچ جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ دھر میں فرمایا ہے کہ ایک چھوٹا سا قطرہ ہے، جس سے بچے کی پیدائش شروع ہوتی ہے۔اس قطرہ میں بھی وہ سارے قولی موجود ہوتے ہیں، جن کی نشو ونما حاصل کرنے کے بعد انسانی وجود ایک مکمل شکل اختیار کرتا ہے اور ترقی کرنے لگتا ہے۔یہاں تک کہ ایک چوٹی کے معروف و مشہور سائنسدان کی صورت میں دنیا کے سامنے ظاہر ہوتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ أَمْشَاجِ نَبْتَلِيْهِ فَجَعَلْنَهُ سَمِيعًا بَصِيرًان فرمایا:۔(الدھر: 03) انسان کی پیدائش ایک ایسے نطفے سے ہوتی ہے، جس میں مختلف قوتیں ملی ہوئی ہوتی ہیں۔پھر ب وہ نشو ونما کے مختلف مدارج سے گزر جاتا ہے تو اسے دو بنیادی طاقتیں دی جاتی ہیں۔369