تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 354
خطاب فرمودہ 26 مارچ 1976ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم گوٹن برگ (سویڈن ) میں جس مسجد کی میں نے بنیاد رکھی ہے، اس میں بھی روک ڈالنے کی کوشش کی گئی تھی۔ویسے تو وہاں کے لوگ اسلام کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔ان کو اسلام کے دشمن ہی کہنا چاہیے۔کیونکہ وہ خدا کو نہیں مانتے اور مذہب کے ساتھ ان کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔لیکن ان میں سے جو لوگ صاحب اختیار تھے، انہوں نے روکیں ڈالنے والوں کی کوئی پرواہ نہیں کی۔انہوں نے کہا، ہم تو ان کے ساتھ وعدہ کر چکے ہیں، ان کو زمین دیں گے۔اور وہ زمین بڑی اچھی ہے۔ڈیڑھ ایکٹر کے قریب پہاڑ کی چوٹی پر واقع ہے۔میری یہ خواہش ہے اور ایک، دو دوستوں کو میں نے کہا ہے، اگر پانچ ، سات دوست اپنے طور پر بھی اس مسجد کے افتتاح پر جانا چاہیں تو برکتیں حاصل کر کے ہی وہاں سے آئیں گے۔اور وہاں کے لوگوں کو بھی خیال پیدا ہو گا۔سویڈن میں اب دو قسم کے باشندے ہو گئے ہیں۔ایک تو سویڈن کے پرانے باشندے ہیں۔اور ایک وہ لوگ ہیں کہ جو دوسری جنگ عظیم کے بعد اشتراکیت کی کھپ کی وجہ سے بعض مسلمان اور بعض دوسرے عیسائی وغیرہ بھی اپنے اپنے ملکوں سے بھاگ کر یورپ کے مختلف ممالک میں آباد ہو گئے تھے۔اور ایسے سویڈن میں بھی آباد ہیں۔اور ان میں سے اس وقت تک بچوں سمیت سینکڑوں افراد احمدی ہو چکے ہیں۔اور بڑے جوشیلے ہیں۔جلسہ سالانہ پر بھی آئے ہوئے تھے۔اور انہوں نے بڑے درد کے ساتھ اور بڑے زور کے ساتھ مجھے یہ کہا کہ آپ ہمارے لئے بہت سا سفر خرچ مہیا کریں۔تا کہ یورپ میں جہاں جہاں ہمارے ملک کے باشندے اس طرح آ کر ڈیرہ ڈالے بیٹھے ہیں، ہم ان میں جا کر تبلیغ کریں۔وہ کہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کی طرف سے جس رنگ میں اسلام پیش کیا جاتا ہے اور اسلام کی صحیح تعلیم جس عظی رنگ میں پیش کی جاتی ہے، انسانی فطرت اور انسانی عقل اسے قبول کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔چنانچہ ان میں سے بعض مسلمان ہورہے ہیں۔تین گھنٹے کی ایک ملاقات میں دس، پندرہ خاندان احمدی ہو گئے۔وہ ہماری باتیں سنتے ہیں اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا تھا، پچھلے سال غالباً شوری کے موقع پر یا جلسہ سالانہ کے موقع پر بھی بات ہوئی تھی کہ وہ لوگ ہم سے لٹریچر مانگ رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ہمیں لٹریچر دو۔ہم نے بنیادی مسائل سمجھے، ہمارے کانوں میں دلائل پڑے، ہم احمدی تو ہو گئے ہیں۔لیکن صحیح اسلام کی تصویر اتنی مختصر تو نہیں۔وہ تو ساری زندگی پر حاوی ہے۔اس لئے وہ کہتے ہیں کہ ہماری اپنی زبان میں ہمیں لٹریچر دو۔اور ان کا یہ مطالبہ درست ہے۔ہم کوشش کر رہے ہیں۔لیکن میری کوشش تب ہی کامیاب ہوسکتی ہے، صرف اس معنی میں میری کوشش کہ جیسا کہ میں نے کہا ہے، جماعت احمدیہ کا وجود اور میرا وجود، 354