تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 322
خطبہ جمعہ فرمودہ 29 اکتوبر 1976ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَنِ (المائدہ: 91) کہ یہ شیطانی عمل کی گندگی ہے۔اور وہ خدا کی طرف جھکنے کی بجائے ، ذکر اللہ کی بجائے ، شیطانی عمل کی طرف جھک کر اپنے لئے سکون قلب تلاش کرتے ہیں۔لیکن دکھ کا بھول جانا تو اطمینان قلب نہیں کہلا سکتا کہ جی ہمیں یاد نہیں رہا۔جیسے کہ اگر کوئی آدمی بیمار ہو اور درد میں تڑپ رہا ہو ، اسے ڈاکٹر افیم کا، مارفیا کا ٹیکہ لگا دیتے ہیں اور بے حس کر دیتے ہیں۔لیکن بے حسی سکون قلب اور خوشحالی کی علامت نہیں۔بے حسی خواہ کسی فعل کے نتیجہ میں پیدا ہو، ٹیکہ لگانے کے نتیجہ میں یا شراب پینے کے نتیجہ میں ، وہ اس بات کی علامت ہے کہ انسان تکلیف میں ہے لیکن اس کو کوئی مداوا نظر نہیں آتا ، اس کو کوئی چارہ نظر نہیں آتا۔وہ خود کو بے حس اور بے ہوش کر کے یا نیم بے ہوشی اپنے اوپر طاری کر کے تکلیف کا احساس دور کرنا چاہتا ہے۔کیونکہ تکلیف کو دور کرنے کا کوئی سامان اس کے پاس نہیں ہے۔وہ حسین تعلیم ، جو قرآن عظیم کی شکل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ نوع انسانی کو دی گئی تھی۔کچھ خوش بخت تھے، جن کے لئے اس کے ذریعہ حسنی اور کامیابی اور خوشحال زندگی کے سامان پیدا ہوئے اور کچھ کے لئے نہ ہوئے۔انسان کو دکھوں سے نجات دلانے کے لئے ایک جدو جہد، ایک تگ و دو، ایک عظیم مجاہدہ چودہ سو سال سے شروع ہے۔اسلام کسی کو زبردستی مسلمان نہیں بنا تا۔اسلام در دکو دور کر کے، پریشانیوں کو مٹاکر ، جسمانی اور روحانی سرور پیدا کر کے لوگوں کے دل جیتا اور انہیں اپنی طرف لے کر آتا ہے۔جیسا کہ بتایا گیا تھا کہ نوع انسانی چودہ سو سال تک بھٹکتے رہنے کے بعد اور سرگردان پھرنے کے بعد آخری زمانہ میں اسلامی تعلیم کی طرف آئے گی اور اس کے حسن کو پہچانے گی اور اس کے سرور سے سرور حاصل کرے گی اور اس کی لذتوں میں اپنی خوشیاں پائے گی۔جیسا کہ یہ پیشگوئی کی گئی تھی ، اس کے مطابق اب نوع انسانی کو اسلامی تعلیم کی طرف لانے کا زمانہ آگیا ہے۔اور یہ ذمہ داری کہ اسلام کے حسن کا تعارف نوع انسانی سے کروایا جائے ، جماعت احمدیہ پر ڈالی گئی ہے۔جنہوں نے کہ مہدی علیہ السلام پر ایمان لانے کی توفیق پائی۔اس سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے علمی لحاظ سے ہمارے خزانوں کو بھر دیا ہے۔اور اعتقادی لحاظ سے کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے، جس کے متعلق یہ کہا جا سکے کہ مسئلہ تو ہے مگر اس کے سلجھانے کے لئے کوئی تعلیم ہمارے پاس نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی چھوٹی اور 322