تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 321 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 321

تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطبہ جمعہ فرموده 29 اکتوبر 1976ء بارش وہ ہوئی کہ یہ خبریں آنے لگیں، فلاں علاقے میں سیلاب آ گیا، ہزار ہا آدمی بے گھر ہو گئے ، مکان بہہ گئے، پانی کا جور یلا آیا، وہ پور امکان کا مکان ہی بہا کر لے گیا، کئی جانیں تلف ہوئیں اور نقصان ہو گیا۔پس چونکہ وہ خدا تعالیٰ کا حکم ماننے کے لئے تیار نہیں اور اللہ تعالیٰ نے انسان کی فلاح اور کامیابی اور خوشحال زندگی کے لئے جو تعلیم بھیجی ہے، اس کی طرف توجہ نہیں کرتے ، اس لئے اپنے ہاتھ سے بھی وہ اپنی ناکامیوں کے سامان پیدا کرتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ ان کو بیدار کرنے کے لئے اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ان کے منہ اور توجہ کو پھیرنے کے لئے انہیں گاہے گاہے جھنجھوڑتا بھی رہتا ہے۔جیسا کہ اس کی سنت ہے۔یہ بات کرتے ہوئے ، مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کا ایک واقعہ یاد آ گیا کہ اللہ تعالیٰ کس طرح اپنے پیاروں کے ذریعے سے اور اب اس زمانہ میں بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اپنے نہایت ہی پیارے محبوب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے اپنی رحمت کے سامان پیدا کرتا ہے۔ایک دفعہ قحط پڑا، مدینہ میں بعض صحابہ نے جمعہ کے وقت کہا کہ یا رسول اللہ قحط پڑا ہے۔چارے بھی خشک ہو گئے ہیں، جانور بھی تکلیف میں ہیں اور انسان بھی تکلیف میں ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہمارے لئے بھلائی کے سامان پیدا کرے اور اپنی رحمت کی بارش نازل کرے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور ابھی جمعہ ختم نہیں ہوا تھا کہ بارش شروع ہوگئی۔بارش ہوتی رہی اور سات دن زمین خوب سیراب ہوئی۔اگلے جمعہ میں پھر کھڑے ہو گئے کہ یارسول اللہ بارش تو زیادہ ہوگئی ہے، اب ہمیں بارش کی زیادتی نقصان پہنچا رہی ہے۔یارسول اللہ ! دعا کریں کہ بارش تھم جائے۔آپ نے دعا کی اور بارش تھم گئی۔اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے اور خدا تعالیٰ نے آپ کی دعا سے اس علاقے میں آپ کی صداقت اور آپ سے اپنے پیار کا ایک نشان ظاہر کرنا تھا۔چنانچہ اس طرح لِلَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنَى کے مطابق ان کی کامیابی اور فلاح کے اللہ تعالیٰ نے سامان پیدا کر دئیے۔اور اب مہینوں انگلستان پانی کے لئے تڑپتا رہا لیکن اسے پانی نہیں ملا۔اور جب پانی ملا اور اس کی زیادتی ہو گئی تو اس پانی کو بند کرنے کے لئے اور اس میں مناسب تو ازن قائم کرنے کے لئے ان کو کوئی سہارا نہیں ملتا تھا۔وہ لوگ اسی چکر میں رہتے ہیں۔میں نے تو ایک چھوٹی سی مثال دی ہے، ورنہ ان کی ساری زندگیاں ہی اسی چکر میں ہیں۔شراب کے نشے میں اپنے دکھوں کو بھولنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔وہ شراب، جس کے متعلق قرآن کریم نے کہا ہے کہ 321