تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 290
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 02 اپریل 1976ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم دراصل جب سے انبیاء علیہم السلام کا سلسلہ شروع ہوا، اس وقت سے یہی ہورہا ہے۔اور خدا تعالی کا یہ حسن سلوک اپنے پیارے بندوں کے ساتھ اس وقت اپنے کمال کو پہنچا، جب شمس الکمال دنیا پر ظاہر ہوا، یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عظیم تھاوہ انسان کہ اس وقت سے اب تک چودہ سو سال ہو گئے ہیں کہ اس کی امت میں سے جس نے بھی اور جب بھی خدا تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنی طاقت کے مطابق اس کے حضور پیش کر دیا تو خدا تعالیٰ نے اپنے فضلوں سے ان کے گھر کو بھر دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام، حضرت مہدی معہود علیہ السلام حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشگوئیوں کو پورا کرنے کے لئے مبعوث ہوئے کہ آخری زمانہ میں ساری دنیا میں اسلام غالب آجائے گا۔اور آپ کے ذریعہ سے تربیت حاصل کرنے والوں کی ایک چھوٹی سی جماعت بنی۔اب آہستہ آہستہ اس تربیت کا رنگ بدل گیا ہے۔کجاوہ زمانہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے اگر کسی نے دین اسلام کی راہ میں چونی پیش کی تو آپ نے اپنی کتابوں میں ان کا نام اور چونی یا دونی کا ذکر کر کے قیامت تک کے لئے ان کے لئے دعائیں کرنے والے بنا دیئے۔جب بھی دوست پڑھیں گے، ان کے لئے دعائیں کریں گے۔آپ نے اس واسطے نام لکھے کہ یہ چیز اس زمانے کی حالت بتارہی تھی۔ایسا زمانہ تھا کہ کوئی شخص اللہ اور اس کے رسول اور اسلام کی راہ میں دونی دینا بھی دوبھر سمجھتا تھا۔پھر تربیت ہوئی اور تربیت میں دو قسم کی وسعت پیدا ہوئی۔ایک تو تربیت پانے والوں میں وسعت پیدا ہوئی اور دوسرے آہستہ آہستہ تربیت میں شدت پیدا ہوئی اور تربیت کا ہر قدم آگے بڑھنا شروع ہوا۔چنانچہ ابھی مشاورت ختم ہوئی ہے، اس میں جماعت کے بجٹ پیش ہوئے۔بیرونی ممالک کا ایک سال کا بجٹ قریب دو کروڑ روپے ہے اور اندرون پاکستان کا بجٹ اگر سارے چندے ملالئے جائیں تو ایک کروڑ سے اوپر ہے۔لیکن صرف صدر انجمن احمدیہ کے چندے بھی 72 لاکھ کے قریب بنتے ہیں۔پس کجا ہم (یعنی جماعت احمدیہ ) اپنے ابتدائی دور میں دونیوں کی بات کیا کرتے تھے اور کجا آج ہم کروڑوں کی بات کر رہے ہیں۔لیکن جس طرح کام بڑھنا شروع ہوا ہے، اس کے لحاظ سے اس وقت کام کے مقابلے میں جو دونی کی حیثیت تھی ، آج کروڑوں کی حیثیت بھی کام کے مقابلہ میں وہی ہے۔کیونکہ جماعت احمدیہ کے سپر د جو کام ہوا ہے، وہ کروڑوں سے تو پورا نہیں ہوتا۔ساری دنیا کو اسلام کی صداقت کا قائل کرنا ہے۔میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ ایک موقع پر مجھے شرمندہ ہونا پڑا۔ایک صحافی نے مجھ سے یہ سوال کر دیا کہ اسلام کی ایسی حسین تعلیم کو ہمارے عوام تک پہنچانے کے لئے آپ نے کیا سامان کیا ہے؟ چنانچہ اس 290