تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 289
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 02 اپریل 1976ء اور اسلامی حکومتوں کے خلاف سازشیں کرتے رہتے تھے۔اس کا سد باب کرنا ضروری تھا۔لیکن ان کے مقابلہ میں دس ہزار کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔اس قدر فرق ہے، دونوں فوجوں کا کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے۔لیکن جس چیز سے ان کے سینے اور ان کے ذہن اور ان کی روح بھری ہوئی تھی ، وہ اللہ تعالیٰ پر توکل تھا۔اتنے تھوڑے ہوتے ہوئے بھی انہوں نے اپنی کشتیاں جلا دیں کہ آگئے ہیں تو اب واپس تو نہیں جانا ہم نے۔اور خدا تعالیٰ پر اتنا تو کل کہ وہ ہماری اس حقیر کوشش کو ضائع نہیں کرے گا۔پس خدا تعالیٰ یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ اسلام کو جتنی ضرورت ہے، اتنادو۔بلکہ مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ جتنی طاقت ہے، اتنا خدا کے حضور پیش کر دو۔اور جتنی طاقت ہے، اتنا جب پیش کیا جاتا ہے تو وہ ضرورت کا شاید کروڑواں حصہ بھی نہیں ہوتا، شایدار بواں حصہ بھی نہیں ہوتا۔لیکن خدا یہ کہتا ہے کہ جتنا تمہاری استعداد میں ہے، جتنا تمہاری طاقت میں ہے، وہ دے دو اور باقی مجھ پر توکل رکھواور مجھ پر بھروسہ رکھو۔خدا کہتا ہے کہ اصل طاقت تو میری ہے اور اصل حکم تو ( خدا کہتا ہے کہ ) میرا چلتا ہے، جب تم اپنی طاقت کے مطابق سارا دے دو گے تو میں ضرورت کے مطابق مہیا کر دوں گا۔اس وقت ہم اسی قسم کے زمانہ میں سے گزر رہے ہیں۔غریب کسی جماعت ہے، دنیا اسے حقارت کی نظر سے دیکھ کر اور گالیاں دے کر خوش ہوتی ہے۔اور ہر قسم کی غلط اور بے بنیاد باتیں منسوب کر دیتے ہیں کہ آدمی حیران ہوتا ہے کہ یہ کیا ہورہا ہے؟ لیکن اصل چیز یہ نہیں ہے کہ ان میں اخلاقی کمزوریاں ہیں۔ان کے لئے تو ہم دعائیں کرتے ہیں۔اصل چیز یہ ہے کہ اس وقت یہ ہماری حالت ہے۔ہمارا مقام دنیا کی نگاہ میں یہ ہے کہ کچھ بھی نہیں، ایک ذرہ ناچیز ہیں۔یہ جو اتنی جرات کے ساتھ اس قسم کی باتیں کر دی جاتی ہیں، یہ نہیں کہ اس سے ہمیں غصہ آتا ہے۔ہمیں تو ان پر رحم آتا ہے۔لیکن اس سے میں یہ نتیجہ نکالتا ہوں اور ہر احمدی کو یہ نتیجہ نکالنا چاہیے کہ اس سے ہمیں اپنی حالت کا پتہ لگ جاتا ہے کہ خدا ہمیں بتارہا ہے کہ ہو تو تم یہی نا کہ جو اٹھتا ہے تمہیں گالی دینے کو ثواب سمجھتا ہے۔ہر قسم کے دکھ تمہیں پہنچاتا ہے اور ایذا دیتا ہے۔یہ ہے، تمہاری حیثیت۔اور خدا کہتا ہے کہ تمہاری یہ حیثیت دنیا کی نگاہ میں ہے لیکن میری نگاہ میں تمہاری یہ حیثیت نہیں ہے۔اگر تم خلوص نیت کے ساتھ اور ایثار کے ساتھ اور ثبات قدم کا مظاہرہ کرتے ہوئے جتنی طاقت ہے، اتنا میرے حضور پیش کر دو گے تو تمہارے سپر جو کام کیا گیا ہے، اس کے لئے جس چیز کی ضرورت ہے، ان دونوں میں جو فرق ہے، وہ میں پورا کر دوں گا۔اور وہ پہلے بھی کرتا رہا ہے۔ہمارے سامنے کوئی نئی چیز تو نہیں۔289