تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 270 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 270

اقتباس از خطاب فرموده 28 مارچ 1975ء تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم جائے گی۔ایسے محاورے بولے جاتے ہیں لیکن ان سے کرید کرید کے پوچھیں تو کہیں گے نہیں۔میں نے بڑے بڑے ڈاکٹروں سے پوچھا ہے کہ مجھے یہ بتاؤ کہ کیا تمہارے پاس ایسے مریض آتے ہیں، جن کے متعلق تمہیں یقین ہو کہ وہ اچھے ہو جائیں گے لیکن وہ مر جاتے ہیں؟ انہوں نے کہا، ہاں ، آتے ہیں۔پھر میں نے پوچھا کہ کیا ایسے بھی مریض آتے ہیں کہ تمہیں یقین ہو کہ یہ کبھی نہیں بچ سکتے اور پھر وہ بچ جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہاں، ایسے بھی آتے ہیں۔پس زندگی اور موت ، اسی طرح بیماری سے شفا دینا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ہسپتالوں کی بڑی بڑی عمارتیں اور دنیا جہاں کے سرجری کے جو اپریٹس ہیں، ان کے نتیجہ میں شفا حاصل نہیں ہوتی۔ہمارے ایک ڈاکٹر کے پاس ایک مریض آیا، جس کے متعلق اس ملک کے سارے غیر ملکی ڈاکٹروں نے یہ کہا تھا کہ یہ ایک ایسے مرض میں مبتلا ہے کہ اس ملک میں اس کا آپریشن ہوہی نہیں سکتا۔اور اتنا شور مچایا کہ وہاں کی حکومت نے ہمارے ڈاکٹر سے کہہ دیا کہ تم اس کا آپریشن نہیں کرو گے۔جب یورپ اور امریکہ کے بڑے بڑے ماہر ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اس کا آپریشن یہاں ہوہی نہیں سکتا تو تم کیسے اس کا آپریشن کرو گے؟ انہوں کہا کہ ٹھیک ہے، نہیں کریں گے۔اس پر اس مریض کے رشتے داروں نے شور مچا دیا۔اور حکومت سے کہا کہ تم کہتے ہو کہ یہاں اس کا علاج نہیں ہوسکتا اور اس کو باہر بھیجنے کے لئے تم تیار نہیں ہو۔پیسے خرچ کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔اور اب ایک شخص کہتا ہے کہ میں آپریشن کر دیتا ہوں۔زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا کہ مریض مر جائے گا، وہ اس طرح بغیر آپریشن کے بھی تو مر جائے گا۔ہم اس کے رشتہ دار ہیں، ہماری ذمہ داری پر ڈاکٹر کو آپریشن کرنے کی اجازت دی جائے۔چنانچہ ان کے زور دینے پر حکومت نے اجازت دے دی۔ہمارے ڈاکٹر نے اس کا علاج کیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے شفا دے دی۔" یہ تو مختصر اس وقت تک کے حالات ہیں، جن کے متعلق بڑے اختصار کے ساتھ میں نے کچھ ذکر کیا ہے۔آئندہ کے متعلق میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہر احمدی یہ عہد کرے کہ دنیا کی ساری طاقتیں مل کر بھی اگر خدائی منصوبہ کو نا کام کرنے کی کوشش کریں گی (جو نہیں ہو سکتا ) تو ہمیں خدا تعالیٰ نے جو اپنی رحمت سے نوازنے کے لئے قربانیوں کی طرف بلایا ہے، ہم اس میں ایک ذرہ بھی کمی نہیں آنے دیں گے۔اور خدا تعالیٰ کے فضلوں سے اپنی جھولیوں کو بھر لیں گے۔اور خود کو دنیا کے لئے ایک ایسا نمونہ بنائیں گے کہ جس نمونے کی آج کی دنیا کو پیاس ہے۔اور اس کے بغیر ہم اپنے اس مشن میں کامیاب نہیں ہو سکتے کہ ساری دنیا کو توحید پر قائم کر کے اسلام کے دروازے سے اندر لے آئیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق اللهم آمين۔رپورٹ مجلس مشاورت منعقدہ 28 تا30 مارچ 1975ء ) | 270