تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 160
خطاب فرمودہ 29 مارچ 1974ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم سامنے آئی ہے جو کہ بڑی افسوسناک ہے اور بڑا صدمہ ہوتا ہے کہ ایک اسلامی ملک نے ، جو اپنے آپ کو اسلام کا چمپیئن سمجھتا ہے، ہالینڈ کے شدید کٹر مخالفین اور دشمنان اسلام کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے یہ پراپیگنڈا کرناشروع کیا ہے کہ جماعت احمد یہ اسلام کی نمائندہ نہیں ہے، اس لئے اپنے سکولوں اور اپنے چرچز Churched) میں ان کی تقریریں نہ کروایا کرو۔(وہاں کلیساؤں میں بھی ہماری تقریریں ہوتی ہیں۔اور نہ اپنے سکولوں کے بچوں کو ان کی مساجد میں بھیجو۔ان کو تو مسلمان بھی کافر کہتے ہیں۔یہ کہاں کے اسلام کے نمائندہ ہیں؟ غرض اسلام کا جو اپنے آپ کو ہمدرد اور بڑا دوست اور چمپیئن سمجھنے والا ملک ہے، اس نے شدید دشمنان اسلام سے مل کر یہ منصوبہ بنایا ہے۔ایک تو یہ چیز سامنے آئی ہے۔دوسرے یہ چیز سامنے آئی ہے کہ مکہ سے ایک رسالہ نکلتا ہے، دی مسلم ورلڈ لیگ اس میں ہمارے خلاف تین مضمون لکھے گئے ہیں۔یہ رسالہ ہمیں ولایت سے بھجوایا گیا ہے۔ایک مضمون لکھا ہے، ابوالحسن علی ندوی صاحب نے اور ایک مضمون لکھا ہے، ابوالاعلیٰ مودودی صاحب نے اور ایک مضمون جماعت احمدیہ کے خلاف لکھا ہے، شیخ محمد الخضر حسین صاحب نے۔اور مینوں میں سے کسی ایک نے بھی اس شرافت کا مظاہرہ نہیں کیا کہ مضمون لکھنے سے پہلے ہم سے تبادلہ خیال کر لیتے۔یہ تو انسان کا حق ہے کہ اگر کسی کی طرف بات منسوب کرنی ہو تو پہلے اسے جان کر بات تو کرنی چاہئے۔اور یہ ایسی عجیب چیز ہے کہ کوئی انسانی عقل اس کا انکار نہیں کر سکتی۔ایک دفعہ آٹھ ، دس مسلم ممالک کے سفیر ایک دعوت میں اکٹھے تھے۔ماریشس کے سفیر نے ہماری دعوت کی تھی اور اس نے بعض ملکوں کے سفیروں کو بھی بلایا ہوا تھا۔ملائیشیا کا سفیر وہاں شور مچار ہا تھا۔بہت اونچی آواز میں بولتا تھا اور بڑا با تو نی تھا۔ایک وقت میں وہ کہنے لگا کہ اصل بات یہ ہے کہ ہم مرزا غلام احمد (علیہ الصلوۃ والسلام ) کو مسجد دتو مان سکتے ہیں، لیکن جو آپ کا عقیدہ ہے، وہ نہیں مان سکتے۔یہ خدا کی شان تھی کہ اس کے منہ سے یہ الفاظ نکلوا دئیے۔میں نے کہا کہ آپ نے مجھ سے تبادلہ خیال تو کیا نہیں کہ ہمارا عقیدہ کیا ہے؟ اور اس کا انکار کر رہے ہیں، یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔تو سارے سفیر صاحبان، جن میں نائیجیریا کے سفیر اور شام کے سفیر اور لیبیا کے سفیر اور ایران کے سفیر شامل تھے، ان سب نے قہقہہ لگایا اور انہوں نے کہا، دیکھو تم جواب نہیں دے سکتے۔کیونکہ بغیر تبادلہ خیال کے تم یہ اعلان کر رہے ہو کہ جو آپ کا عقیدہ ہے، وہ ہم نہیں مانتے۔پس ہمارا اعتراض اول یہ ہے کہ اگر تم خود کوعلماء سمجھتے ہو تو جماعت احمدیہ کے علماء سے تبادلہ خیال کرو۔اور پھر اگر تمہیں سمجھ نہ آئے اور نا مجھی کی باتیں لکھو گے تو تم پر یہ اعتراض نہیں ہوگا کہ تم نے تبادلہ 160