تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 161 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 161

تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جدہ پنچم خطاب فرمودہ 29 مارچ 1974ء خیال کے بغیر یہ مضامین لکھے۔اور اگر تم اپنے آپ کو کسی جماعت کا لیڈر اور امام سمجھتے ہو تو جماعت احمدیہ کے امام سے جا کر باتیں کرو۔اور پھر اس کے بعد جو کچھ لکھو گے، اگر شرارت سے لکھو گے تو تم ذمہ دار ہو گے۔اگر نہ سمجھی سے لکھو گے تو تم ذمہ دار ہو گئے۔لیکن یہ اعتراض تم پر نہیں آئے گا کہ تبادلہ خیال نہیں کیا۔بات سمجھنے کی کوشش نہیں کی اور یوں ہی بات منسوب کر دی۔مثلا ان میں سے کسی نے لکھ دیا ( یہاں بھی یہ اعتراض کرتے ہیں ) کہ یہ انگریز کا لگایا ہوا پودا ہے۔یہ اعتراض اصل میں اہل حدیث نے شروع کیا تھا اور اس کی ایک وجہ تھی ، وہ یہ کہ عرب اور مکہ ومدینہ کایہ دنیوی حاکم یعنی سعودی خاندان ، وہ خاندان ہے کہ جو انگریز کا لگایا ہوا پودا ہے۔انگریزوں نے ان کی خاطر جنگ کی۔انہوں نے خلافت ترکیہ کو مٹانے کے لئے ان کو خلافت ترکیہ کے خلاف کھڑا کیا۔ان سے جنگیں لڑیں، ان کو شکستیں دیں اور پھر ان کو یہاں اقدار ملا۔اس واسطے اہل حدیث کے دماغ میں ہمیشہ یہ کھیلی رہتی ہے کہ ہم پر یہ اعتراض ہو جائے گا کہ تم تو انگریز کا لگایا ہوا پودا ہو، اس لئے وہ ہم پر اعتراض کر دیتے ہیں۔چنانچہ اگر وہ ہم سے تبادلہ خیال کرتے تو ہم وہ سارے حوالے جو انسائکلو پیڈیا برٹینیکا میں موجود ہیں، ان کے سامنے رکھتے۔جو کہ مشہور انگریز حاکمان وقت چرچل وغیرہ کے ہیں۔ان کی کتابوں کے اندر لکھا ہے کہ ہم نے یہ تدبیر کی۔اور یہ گٹھ جوڑ کیا۔اور ان کو منظم کیا اور اس طرح فوجیں بھیجیں اور اتنی رائفلیں دیں۔تا کہ ہم ترکی حکومت کی افواج کو شکست دیں اور سعودی خاندان کی وہاں حکومت قائم کریں۔اگر وہ ہم سے مل کر جاتے تو پھر وہ کم از کم یہ اعتراض نہ کرتے۔خواہ یہ مانتے یا نہ مانتے کہ انگریز نے کس پودے کو لگایا تھا ؟ لیکن ہم سے انہوں نے پوچھا ہی نہیں اور یہ لکھ دیا۔بہر حال جو تین مضمون چھپے تھے ، ان میں سے ایک تو اردو میں چھپا۔کیونکہ ابوالاعلی مودودی صاحب کو عربی نہیں آتی۔اس کا انہوں نے ترجمہ کروایا۔ندوی صاحب آج کل مدینہ یونیورسٹی میں ہیں، انہوں نے عربی میں لکھا اور مصری صاحب نے بھی عربی میں لکھا۔اور اب مضامین کو ایک کتاب کی صورت میں اکٹھا کرنے کے بعد انہوں نے انگریزی، فرانسیسی، اردو، انڈونیشین، فارسی، ہوسا، ترکی، جرمن، سواحیلی، ملیشیا اور یوروبا میں ترجمہ کر کے اسے دنیا میں شائع کیا ہے۔میں اس وقت مخالفت کی بات کر رہا ہوں۔اب ہماری مخالفت بین الاقوامی اتحاد کی شکل میں ہمارے سامنے آئی ہے۔اور افق اسلام پر جو حالات جنگ احزاب کے موقع پر ابھرے تھے کہ اہل کتاب اور مشرقین نے گٹھ جوڑ کر کے مدینہ پرحملہ کیا تھا اور اسلام کومنانے کی کوشش کی تھی ، اسلام کی اس نشاۃ ثانیہ میں پھر وہی حالات پیدا ہو گئے ہیں۔چنانچہ ظاہری علوم رکھنے والے اہل قرآن اور اسلام کے دشمن اہل 161