تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 152
خطاب فرمودہ 29 مارچ 1974ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم پس نیشنلزم اور انٹر نیشنلزم میں ایسی تفریق کرنا کہ ہمارے کام میں روک بھی نہ بنے اور ان کے ذہنوں کو تسلی بھی ہو جائے ، یہ ضروری ہے۔یہاں جلسہ سالانہ پر جو افریقی وفود آئے تھے، ان کو میں نے بڑا سمجھایا۔میں نے انہیں کہا کہ جہاں تک تمہارے دنیوی معاملات کا تعلق ہے، مثلاً غانا کے یا سیرالیون کے یا نائیجیریا کے تم بے شک اپنے اپنے Out look میں نیشنلسٹ بنے رہو۔زمانہ آپ ہی تمہیں ایک حد تک انٹر نیشنل بنالے گا۔لیکن جہاں تک مذہب کا اور احمدیت کا اور اسلام کا تعلق ہے تمہیں اپنے اندر بین الاقوامی ذہنیت پیدا کرنی پڑے گی۔کیونکہ خلافت سے کٹ کر تمہاری حالت ایک کٹی ہوئی پتنگ کی طرح ہو جائے گی۔میں نے اب اپنے مبلغین کو بھی سمجھانا شروع کیا ہے کہ اس نہج پر کام کرو۔مقامی باشندوں کو سکولوں اور کالجوں اور ہسپتالوں کے انتظام میں شامل کرو۔اصل میں تو ہمارے مبلغ کی تربیت ایسی ہونی چاہیے کہ وہ اپنی مرضی کا کام کروائے۔اور ان کے ذہنوں میں یہ احساس پیدا کرے کہ جو وہ چاہتے ہیں، وہی ہوگا۔تاکہ کوئی خرابی پیدا نہ ہو۔اور یہ کام آسانی سے ہو سکتا ہے۔ہم ساری عمر ایسا کرتے چلے آئے ہیں۔بہر حال افریقی وفود یہاں سے بڑے خوش خوش گئے۔پھر یہاں سے اسماعیل منیر سیرالیون گئے تو میں نے ان کو یہی کہا کہ دیکھیں وہاں سکولوں کا انتظام ہے، ہسپتالوں کا انتظام ہے، تم ان لوگوں کو اس انتظام میں شامل کرو۔ہم تو ان کی خدمت کے لئے گئے ہیں۔لیکن جہاں تک مذہبی عقائد کا سوال ہے، ان کو بہر حال خلیفہ وقت کے فیصلوں اور جماعتی نظام کی پابندی کرنی پڑے گی۔تو میں نے ان لوگوں سے کہا کہ ٹھیک ہے، ہم اپنے دنیوی معاملات میں نیشنلسٹ بنے رہو، جب تک کہ دنیا تمہیں اس کی اجازت دے۔ان کے ملکوں پر دباؤ پڑ رہے ہیں۔لیکن جہاں تک مذہب کا سوال ہے اور احمدیت کا سوال ہے اور مرکزیت کا سوال ہے اور خلافت کا سوال ہے، تمہیں بہر حال اپنے اندر بین الاقوامی ذہنیت پیدا کرنی پڑے گی۔ور نہ تم ترقی نہیں کر سکتے۔غرض یہ ایک بڑا اہم سوال ہے اور ہماری جماعت کو اس کے متعلق غور کر کے ان Barriers اور ان روکوں کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔تاکہ جماعت ایک برادری بن جائے اور مہدی معہود کا جو امت واحدہ بنانے کا منصب ہے، اس کے راستہ میں یہ چیز روک نہ بنے۔اس کے لئے جو چھوٹی چھوٹی تجاویز ہیں، ان میں سے ایک ٹیلیکس ہے۔ٹیلیکس کا اپنا ایک نظام ہے۔اور وہ یہ ہے کہ مثلاً لائل پور میں مشین ہے، یہاں سے وہ مشین خود ہی ٹائپ کرتی ہے اور اس طرح ٹائپ کر کے ایک پیغام اس کے اندر رکھ دیتے ہیں۔وہ پیغام وائرلیس کے ذریعہ انگلستان پہنچ جاتا ہے۔اور انگلستان کے دفتر میں وہ ٹائپ ہورہا ہوتا ہے۔وہاں بھی بجلی کی مشین ہے، جو ٹائپ کرتی ہے۔اب کل 152