تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 151
تحریک جدید- ایک ابی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطاب فرمودہ 29 مارچ 1974ء اس وقت بحیثیت مجموعی دنیا کی جو حالت نظر آتی ہے، اس سے ایک اور مسئلہ ہمارے لئے سامنے آتا ہے۔اور وہ یہ ہے کہ کچھ ملک مدت ہوئی آزاد ہو گئے اور انہوں نے دنیا میں طاقت حاصل کر لی۔اس وقت وہ اپنی حفاظت کی خاطر ( دنیا پر احسان کی خاطر نہیں اور نہ دنیا سے پیار کے نتیجہ میں ) اور خود اپنے مفاد کے لئے بین الاقوامی ذہنیت یعنی انٹر نیشنلزم کا پرچار کرتے ہیں۔کچھ ملک جو نئے نئے آزاد ہوئے ہیں، وہ چونکہ نئے نئے آزاد ہوئے ہیں، ان کے نزدیک انٹر نیشنلزم سے مراد کالونیلزم بن جاتا ہے۔البتہ کالونیز کی شکل مختلف ہے۔ان کے ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ انٹر نیشنلزم کا مطلب یہ ہے کہ گویا بہت سے ممالک کو اکٹھا کر کے ان کی Exploitation یعنی استحصال کیا جائے یا ان کی دولت سے ان کو محروم کرنے کی سعی نا پسندیدہ کی جائے۔اب مثلاً جب میں افریقہ کے دورے پر گیا تو غانا میں مجھے پتہ لگا کہ ایک، دو آدمی ایسے ہیں، جو کہتے ہیں کہ A Ghanian for Ghana۔غانا کا جو عالم ہے اور جسے جماعت احمدیہ نے تیار کیا ہے، ہمارے ملک میں اس کو انچارج ہونا چاہئے۔مجھے پتہ لگا تو میں نے ان کو سمجھایا۔ان کو میری بات سمجھ آ گئی اور ان میں سے بعض رو پڑے۔میں نے کہا کہ تم کیا باتیں کرتے ہو؟ تم کہتے ہو، A Ghanian for Ghana۔اور میں یہ کہتا ہوں کہ A Ghanian for England۔چونکہ انگلستان نے تم پر ظلم کیا تھا، اس لئے میں تو انگلستان میں تمہارے غانین کو مبلغ بنا کر بھیجوں گا۔اسلام اور احمد بیت تو اس نہج پر سوچتی ہے اور منصوبے بنارہی ہے۔اور تم اس راہ پر سوچ رہے ہو ، جو کہ غلط ہے۔پھر میں نے عبدالوہاب بن آدم کو، جوغا نا کا بڑا مخلص نوجوان ہے اور جامعہ احمدیہ کا فارغ التحصیل شاہد ہے، حسب وعدہ انگلستان کا مبلغ بنا کر بھیج دیا۔پھر میری یہ خواہش تھی کہ ہمارا غانا کا کوئی احمدی ہیڈ ماسٹر ہو تو اس کو ربوہ کے سکول کا ہیڈ ماسٹر لگا دوں۔کیونکہ جب تک آپ عملاً اس پیار اور اس بین الاقوامی ذہنیت کا مظاہرہ نہیں کریں گے محض کوئی زبانی دعوئی ان کی تسلی کا موجب نہیں بن سکتا۔بہر حال ہم نے اس Mischief اور شرارت کے اس تصور کو دور کرنا ہے کہ جی ہم کیوں مرکز کے ماتحت رہیں۔یہ ذہنیت اب بھی پیدا ہوسکتی ہے۔پہلے زمانہ میں جب کہ خلافت ختم ہو گئی تھی، لیکن بادشاہت اپنے آپ کو خلافت کہتی تھی تو اس طرح پین آزاد ہو گیا، مصر آزاد ہو گیا۔نئی حکومتیں بن گئیں اور مسلمان بٹ گئے۔اور ان کا باہمی اتحاد ختم ہو گیا۔یہ تو ہم نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے نہیں ہونے دینا۔انشاء اللہ تعالیٰ۔اور یہ بات تبھی ہو سکتی ہے کہ میں، آپ اور ہم سب دوسرے ملکوں کے رہنے والوں کو اپنے گلوں سے لگائیں اور ان سے اتنا پیار کریں کہ وہ بھول جائیں کہ ہم دو ملکوں کے رہنے والے ہیں۔151