تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 147
تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطاب فرمودہ 29 مارچ 1974ء ہے۔مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالے، اس کا ایک مسودہ تیار کرنا ہے۔وہ بنیادی طور پر اردو میں تیار ہو، پھر اس سے آگے ترجمے ہوں گے۔بعض جگہ تبدیلی کے ساتھ اور بعض جگہ بغیر تبدیلی کے ساتھ۔اس کے لئے دفتر اور کچھ کارکن ہونے چاہیں ، جو مشاورت کے معا بعد اپنا کام شروع کر دیں۔اس منصوبہ کی شق نمبر 4۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ میری بعثت کی بنیادی غرض یہ ہے کہ میں نوع انسانی کو امت واحدہ بنادوں۔یہ بشارت اللہ تعالیٰ نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی۔آپ دنیا میں رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجے گئے تھے۔جو وجود ساری دنیا کے لئے رحمت بن کر آیا ، دنیا کی بد قسمتی تھی کہ اس رحمت کو ساری دنیا میں پہچانا نہیں گیا۔خدا تعالیٰ نے آپ کو یہ بشارت دی اور ساتھ ہی یہ بشارت بھی دی کہ چونکہ یہ انتہائی مشکل کام ہے، اس لئے یہ آخری زمانہ میں مہدی معہود کے وقت میں ہوگا۔بشارتوں میں یہ مذکور ہے کہ آپ کا یہ کام کہ ساری دنیا اور ملک ملک کے انسان، مختلف جگہوں پر بسنے والے اور مختلف بولیاں بولنے والے مختلف کپڑے پہننے والے اور مختلف موسموں کے عادی ایک خاندان بن جائیں گے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کام جو رحمتہ للعالمین کا ایک نہایت شاندار اور یو نیورسل مظاہرہ ہے، اس کا ظہور حضرت مسیح موعود، مہدی معہود علیہ السلام کے وقت میں ہوگا۔یہ بشارت ہے، جو مہدی معہود کو دی گئی ہے۔اور اس کا وقت آگیا ہے۔اور ہم پر اس کی ذمہ داری آپڑی ہے۔امت واحدہ بنانے کے لئے ایک بات تو یہ ہے کہ گھر میں ان کو امت واحدہ بنایا جائے۔امت واحدہ بنانے کے لئے اصولاً ایک کشمکش اور ایک مجاہدہ تو شروع ہے، آج سے چودہ سو سال پہلے سے۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نداء بلند کی ، کفار مکہ کو توحید کی طرف بلایا تو یہ کام شروع ہو گیا کہ تمام بنی نوع انسان جو اللہ کی مخلوق ہیں، وہ خدائے واحد و یگانہ پر ایمان لا کر ایک امت بن جائیں گے۔اور وہ تبھی ایک بن سکتے ہیں کہ جب ان کو تو حید پر قائم کر دیں۔یہی ایک بنیادی ذریعہ ہے، جس سے سب دنیا ایک امت بن جاتی ہے۔لیکن اس کے راستے ہیں، کچھ عقلی روکیں ہیں یعنی ان کو سمجھ نہیں آتی۔کیونکہ ان کی عقلیں موئی ہیں۔یا یہ مسائل ان کے سامنے رکھے ہی نہیں جاتے۔اگر رکھیں جاتے تو شاید وہ سمجھ جاتے۔کچھ ان کے غلط عقائد بالا دینیت یابد مذہبیت ہے، جو ہم نے دور کرنی ہے۔کچھ ان کو عادتیں پڑ گئی ہیں، مثلاً روس یہ سمجھتا ہے کہ میں سب سے زیادہ بزرگ ہوں اور امریکہ سمجھتا ہے کہ میں سب سے اعلیٰ ہوں۔ہر بولی اپنے آپ کو سب سے بلند تر ٹھہراتی ہے۔انسان کے مقام پر کوئی بھی ٹھہرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔حالانکہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کے مقام کو بلند کیا ہے۔آپ کے منہ سے کہلوایا گیا کہ 147