تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 129
تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطاب فرمودہ 21 نومبر 1974ء جامعہ احمدیہ میں ہمارے جو بچے آتے ہیں، ہم انہیں جسم انسانی میں اس عضو کی طرح بنانا چاہتے ہیں ، جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے۔ہم یہ چاہتے ہیں کہ طلبائے جامعہ احد یہ اللہ تعالیٰ سے انتہائی وفا کا تعلق پیدا کریں۔اس قد روفا کہ اس سے بڑھ کر ان کے دائرہ استعداد میں ممکن نہ ہو۔اور پھر وہ اساتذہ سے علم حاصل کرنے پر اکتفانہ کریں۔یہ تو ابتداء ہے، علم سیکھنے کی انتہا نہیں ہے۔مبلغین خدا کے بندوں اور جماعت احمدیہ کے اس وقت تک کام نہیں آسکتے ، جب تک ان کا منبع علم یعنی علم سیکھنے کا سر چشمہ خدا تعالیٰ ، جو معلم حقیقی ہے، اس کی ذات نہ بن جائے۔جس وقت خدا تعالیٰ ان کے لئے معلم حقیقی کے طور پر بن جائے گا تو وہ سمجھیں کہ انہوں نے جامعہ احمدیہ میں داخل ہونے کی، جو خواہش ظاہر کی اور جس مقصد کے لئے انہوں نے زندگی وقف کی ، وہ مقصد انہوں نے پالیا۔اس کے لئے حضرت مسیح موعود نے تو بڑے آرام سے فرمایا دیا کہ خدا کو پانا تو سہل ہے، بالکل آسان ہے، خدا کو پانا تو کوئی مشکل نہیں۔وہ جان مانگتا ہے جان دے دو۔اور یہ ایک حقیقت ہے کہ جس شخص کو معرفت الہی حاصل ہو، اس کے نزدیک خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے جان دے دینا بالکل " ایک سہل چیز ہے۔یہ ہے وہ سبق ، جو ہمیں حضرت مسیح موعود نے ایک چھوٹے سے فقرے میں دیا ہے۔پس میں طلبائے جامعہ احمدیہ سے یہ کہتا ہوں کہ وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں جان دینے کے لئے ہر وقت تیار رہیں۔اور اس بات کو ہمیشہ یادرکھیں کہ جان دینے کے لئے تیار وہی ہوگا، جو جان دینے سے ورے ورے ہر قسم کی تکالیف برداشت کر کے خدا کی رضا کے حصول کے لئے کوشش کرتا رہے گا۔جب طلبائے جامعہ احمد یہ ایسے بن جائیں گے تو پھر وہ ہمارے کام کے مبلغ بنیں گے، ورنہ نہیں۔کیونکہ انہوں نے دوسروں کے لئے اسوہ بنتا ہے، دوسروں کا رہبر بنتا ہے اور دنیا کی روحانی قیادت کرنی ہے۔یہ اہلیت چند سال جامعہ احمد یہ میں چند کتا ہیں پڑھ کر اور یہاں کھیل کود کر تو حاصل نہیں ہوسکتی۔ایک اور میدان ہے ان کے عمل کا اور علم کے حصول کا اور اس مقام کو پالینے کا۔جس لئے انہوں نے اپنی زندگیاں وقف کی ہیں، اس میدان کے وہ شہسوار بنیں گے تو جماعت احمدیہ کے مبلغ بنیں گے، ورنہ priest craft تو اسلام کے کام کی نہیں۔جو شخص خدا تعالیٰ کا بندہ بن جاتا ہے، وہ خدا تعالیٰ کی مخلوق کا خادم بھی بن جاتا ہے، دینی لحاظ سے بھی اور دنیوی لحاظ سے بھی۔جو شخص خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنا چاہتا ہے، وہ خدا کی مخلوق کو دکھ نہیں پہنچا سکتا۔اگر ذہنیت یہ ہو کہ اس نے خدا کے پیار کو حاصل کرنا ہے تو خدا نے جس چیز کو پیدا کیا ہے، وہ اسے دکھ کیسے پہنچا سکتا ہے؟ خالی یہی نہیں بلکہ مبلغین کو اس میدان کے لیڈر اور قائد اور اس کے رہبر بنا ہے۔اگر وہ 129