تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 128 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 128

خطاب فرموده 21 نومبر 1974ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم ہے، جس کا اثر پنڈلی پرتو ہوتا ہے، پر دل پر نہیں ہوتا۔لیکن پنڈلی اور دل دونوں ایک ہی جسم کا حصہ ہوتے ہیں۔نوع انسانی میں سے ہر فرد کے جسم میں آنکھیں ہیں۔یعنی جسم کا ایک حصہ آنکھوں پر مشتمل ہے۔اور پھر دوسرے حواس کے لئے اللہ تعالیٰ نے مختلف چیزیں پیدا کیں ہیں۔مثلاً سننے کے لئے، چکھنے کے لئے یا جسم میں جلد پر بھی بہت سی ایسی چیزیں ہیں، جو کس سے احساس پیدا کرتی ہیں اور بعض چیزوں کے چھونے سے ایک حس پیدا ہوتی ہے۔مگر ساری جلد پر ایک جیسی حس نہیں پیدا ہوتی۔اگر آپ ایک پین لیں اور اس پن کو جسم کے بعض حصوں پر چھوئیں تو بعض ایسی جگہیں آئیں گی، جہاں آپ کو اس پن کے چیھنے کا احساس پیدا ہی نہیں ہوگا۔گو یا جسم کے مختلف points (پوائنٹس) ہیں، جو مختلف حس رکھتے ہیں۔اگر چہ دنیا اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی تمام صفات کا احاطہ نہیں کر سکتی مگر جتنی جتنی کوئی کوشش کرتا ہے، اتنی اتنی ترقی پالیتا ہے۔چنانچہ چین میں ایک پرانا فن تھا، اس کو ترقی دی گئی اور اس کا تعلق جسم کے بعض حصوں کو شل کرنے یعنی بے حس کرنے سے ہے۔چینی ڈاکٹر بعض خاص points پر سوئی (جس کو انگریزی میں Aqoa puncture کہتے ہیں۔) داخل کرتے ہیں تو وہ حصے بے حس ہو جاتے ہیں۔چنانچہ انہوں نے اس فن میں اتنی ترقی کی ہے کہ میں نے بعض رسالوں میں تصویریں دیکھی ہیں کہ سینہ کھول کر دل کا آپریشن کیا جارہا ہے۔انگریزی محاورہ میں اسے Heart operation کہتے ہیں۔مریض بڑے سکون اور اطمینان کے ساتھ نیم دراز ہے اور اس کا سینہ کھلا ہوا ہے اور ڈاکٹر اس کے دل کا آپریشن کر رہے ہیں۔ایک مریضہ کی تصویر تھی ، ڈاکٹر اس کا آپریشن کر کے اس کے پیٹ میں سے کینسر نکال رہے تھے۔مگر اس کے چہرہ پر بالکل اطمینان تھا، اسے کوئی احساس ہی نہ تھا کہ آپریشن ہو رہا ہے۔یوں لگتا تھا جیسا کہ وہ باتیں کر رہی ہے اور اس کی آنکھوں میں جان ہے۔پس یہ Aqoa puncture ایک نئی چیز ترقی کر گئی ہے، ( ہے تو پرانی )۔اس کا بھی حس کی تقسیم کے ساتھ تعلق ہے۔اس کے ذریعہ اس حساس جگہوں کو بے حس کر دیا جاتا ہے۔غرض جسم کے مختلف اجزاء ہوتے ہیں، جن کے سپر د اللہ تعالیٰ نے مختلف کام کیسے ہوئے ہیں۔اسی طرح انسانی جسم کا ایک حصہ ایسا بھی بنایا گیا ہے یعنی قلب سلیم ، جو اس وقت سے کہ خدا کی طرف سے آسمانوں سے وحی نازل ہونی شروع ہوئی، روحانی میدانوں میں قیادت کرتا چلا آرہا ہے۔مگر اسلامی اصطلاح میں اسے priest crafni یا priest hood نہیں کہتے۔اسے اسلامی اصطلاح میں جاں شاری کہا جاتا ہے۔اور یہ قلب سلیم رکھنے والے خدا کے وہ جانثار اور وفا دار بندے ہوتے ہیں، جن کا خدا تعالیٰ خود معلم بنتا ہے اور ان کو قرآن کریم کے علوم سکھاتا اور ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا ملہ کے ماتحت نوع انسانی کے مسائل حل ہوتے ہیں۔128