تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 130 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 130

خطاب فرمودہ 21 نومبر 1974ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم اپنے اندر ایسی ذہنیت پیدا کرلیں اور خدا تعالیٰ کی ذات وصفات کی معرفت کے حصول کے لئے مجاہدہ کریں اور پھر اس میں خدا تعالیٰ کے فضل سے کامیاب ہو جائیں تو پھر وہ حقیقی معنی میں واقف زندگی ہیں۔ور نہ تو کئی بیچ میں شامل ہوتے ہیں اور بعض ٹوٹ جاتے ہیں۔جو جلدی ٹوٹ جائیں، وہ ہمارے لئے کم افسوس کا باعث ہوتے ہیں، بنسبت ان کے جو دیر بعد ٹوٹیں۔میں جب تعلیم الاسلام کالج میں پڑھایا کرتا تھا تو کئی بچے، جنہوں نے میٹرک میں سائنس میں اچھے نمبر لئے ہوتے تھے اور ان کے انٹرویو کے وقت مجھے شبہ ہوتا تھا کہ یہ اتنی محنت نہیں کریں گے، جتنی کالج میں سائنس کے طالب علم کو محنت کرنی چاہئے۔تو میں شروع میں پہلے دن داخلے کے وقت ان کو یہ مشورہ دیتا تھا کہ مجھ سے شرمانے کی ضرورت نہیں، دس، بارہ دن کے بعد اگر تمہارا ذہن یہ فیصلہ کرے کہ تم ان مضامین کے قابل نہیں ہو تو اپنے ماں باپ سے نہ ڈرنا، میرے پاس خاموشی سے آجانا، میں تمہارے مضامین بدل دوں گا۔چنانچہ ہر سال پندرہ، ہمیں طالب علم ایسے آتے تھے، جنہوں نے بظاہر میٹرک میں بڑے اچھے نمبر لئے ہوتے تھے لیکن وہ سمجھتے تھے کہ ہم قابل نہیں ہیں اور مجھے کہہ دیتے تھے۔اس لئے اب میں طلبہ جامعہ احمدیہ سے بھی کہتا ہوں کہ وہ روحانی طور پر بھی اپنی زندگیاں خراب نہ کریں اور خدا تعالیٰ کے غضب کو مول نہ لیں۔جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ وہ جامعہ میں چل ہی نہیں سکتا، اسے چھوڑ دینا چاہئے۔وہ اپنے آپ کو کیوں خراب کر رہا ہے؟ اور خدا تعالیٰ کے قائم کردہ سلسلہ کو، جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے اسلام کو دنیا میں غالب کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس کی راہ میں روک کیوں بننا چاہتا ہے؟ لیکن جنہوں نے خدا کا بندہ بن کر جماعت احمدیہ کے واقفین کی جماعت حزب اللہ میں رہنا ہو، ان کو خدا کا بندہ بننا پڑے گا، ورنہ کوئی فائدہ نہیں۔باہر اس وقت مبلغوں کی بہت ضرورت ہے کیونکہ جو دنیا کے فیصلے ہوتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کے منصوبوں پر تو اثر انداز نہیں ہوتے۔اب آج ہی ایک خط میں نے پڑھا ہے کہ ہمیں انگلستان میں موجودہ حالت میں آٹھ مبلغوں کی ضرورت ہے۔مبلغین ہمیں دو طرح ملتے ہیں۔کچھ تو جامعہ میں پڑھتے ہیں اور کچھ وہ لوگ ہیں، جو جامعہ میں نہیں پڑھتے لیکن ان کی روح خدا تعالیٰ کی محبت کی آگ میں جل رہی ہوتی ہے۔اور یہ محبت ان کو مجبور کرتی ہے کہ وہ خدا کے دین کی خدمت کریں۔انہوں نے اپنی کوشش اور دعاؤں سے اپنے طور پر اتنا علم حاصل کیا ہوتا ہے، یعنی اپنے مجاہدہ کے نتیجہ میں اور اللہ تعالیٰ کو معلم حقیقی بنا لینے - کہ وہ باہر جا کر بڑے کامیاب ہو جاتے ہیں۔ہمارے ماسٹر محمدابراہیم ) جمونی صاحب ساری عمر ہیڈ ނ 130